بغداد:کار بم دھماکا ،12 افراد ہلاک
عراق کے دارالحکومت بغداد میں شیعہ اکثریتی آبادی کے علاقے صدر سٹی میں ایک کار بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
عراقی حکام کے مطابق صدر سٹی میں ایک مصروف شاہراہ پر واقع کیفے کے نزدیک کار بم دھماکا ہوا ہے۔اس میں تینتیس افراد زخمی ہوئے ہیں اور انھیں اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔اس علاقے میں قریباً ہر ہفتے کوئی نہ کوئی بم دھماکا یا خودکش بم حملہ ہوتا ہے۔
فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن قبل ازیں القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) پر اس طرح کے حملوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں عراق بھر میں تشدد کے واقعات میں ایک ہزار ایک سو دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ادھر عراق کے شمالی علاقوں میں امریکا کے اتحادی طیاروں کی دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں پر بمباری جاری ہے۔داعش نے جون سے عراق کے پانچ مغربی اور شمال مغربی صوبوں کے بیشتر علاقوں میں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔انھوں نے عراقی سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں کو لڑائی کے بعد ان علاقوں سے مار بھگایا تھا اور اب امریکا کے فضائی حملوں کی مدد سے عراقی فورسز داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
-
عراق: تباہ کن بم دھماکے اور خودکش حملے، 42 افراد ہلاک
شمالی شہروں بیجی اور تکریت میں خودکش بم حملوں کے بعد کرفیو نافذ
مشرق وسطی -
عراق: ٹرک بم دھماکے سمیت متعدد دھماکے، 48 ہلاک
ٹرک بم دھماکہ سبزی منڈی میں کیا گیا، 31 ہلاک، 45 زخمی
مشرق وسطی -
عراق: چھ کار بم دھماکوں سمیت سات دھماکے، 24 ہلاک
دھماکوں میں 65 افراد زخمی ہو گئے، سخت سکیورٹی انتظامات
مشرق وسطی -
عراق: صوبہ الانبار میں خودکش بم دھماکے، فائرنگ، 28 افراد ہلاک
مسلح جنگجوؤں کے الرطبہ اور رمادی میں پولیس چیک پوائنٹس اور تھانوں پر حملے
مشرق وسطی -
عراق: مغربی صوبہ الانبار میں 8 خودکش بم دھماکے، 6 افراد ہلاک
خودکش بمباروں کے پولیس ہیڈ کوارٹرز اور مقامی کونسل کی عمارت پر حملے
مشرق وسطی -
عراق: کار بم دھماکے میں ہلاک افراد کی تعداد 42 ہو گئی
اپریل سے اب تک 4500 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں
مشرق وسطی