روس کا امریکا سے داعش پر انٹیلی جنس تبادلے سے انکار
روس نے امریکا کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ اس نے دولتِ اسلامی عراق وشام (داعش) سے متعلق انٹیلی جنس کے تبادلے سے اتفاق کیا ہے۔روس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے قرارداد کی منظوری کی صورت ہی میں داعش کے خلاف امریکا کے ساتھ کوئی تعاون کرے گا۔
امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے دو روز پہلے ہی ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے اور ان کے ہم منصب سرگئی لاروف نے داعش کے خلاف انٹیلی جنس کے تبادلے کو بڑھانے سے اتفاق کیا ہے لیکن روس کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ماسکو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت کے بغیر کسی ایسے اتحاد میں شامل نہیں ہوگا جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہو۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے دو طرفہ کمیشن کو امریکا خود ہی ختم کرچکا ہے۔ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی داعش کی چیرہ دستیوں کا شکار دونوں ممالک شام اورعراق کو نمایاں مدد دے رہا ہے اور وہ یہ مدد جاری رکھے گا۔
امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ روس اور امریکا نے داعش کے خلاف جنگ میں انٹیلی جنس کے تبادلے سے اتفاق کیا ہے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے پیرس میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات میں داعش سے متعلق سراغرسانی کے اشتراک میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا ہے اور لاروف کا کہنا تھا کہ اس وقت روس سے تعلق رکھنے والے پانچ سو جنگجو داعش میں شامل ہوکر عراق اور شام میں لڑرہے ہیں۔
روس کی جانب سے امریکی وزیرخارجہ کے اس بیان کی تردید سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں شدید سرد مہری کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔امریکا نے یوکرین میں جاری بحران اور علاحدگی پسندوں کی حمایت کی وجہ سے روس پر پابندیاں عاید کردی تھیں اور یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا کی جانب سے روس کے خلاف عاید کردہ سب سے سخت پابندیاں ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان شام میں جاری خانہ جنگی کے معاملے پر بھی اختلافات پاِئے جاتے ہیں۔ امریکا شامی صدر بشارالاسد کے خلاف نبرد آزما باغیوں کی حمایت کررہا ہے اور وہ ان کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ روس ان کی حمایت کررہا ہے اور اس نے گذشتہ ساڑھے تین سال کے دوران شام کو ہتھیار بھی مہیا کیے ہیں جنھیں شامی فوج اسد حکومت کے خلاف بغاوت کو کچلنے مِیں استعمال کررہی ہے۔ یوکرین اور شام میں جاری بحرانوں کے تناظر میں دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدے داروں ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔