بحرین: اپوزیشن جماعت کی سرگرمیاں معطل

پارلیمانی انتخابات سے قبل شیعہ جماعت الوفاق کے خلاف فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بحرین کی ایک عدالت نے حزب اختلاف کی ایک بڑی شیعہ جماعت کی سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ملک میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے ایک ماہ سے بھی کم عرصے قبل اہل تشیع کی جماعت الوفاق کے خلاف یہ حکم جاری کیا ہے۔اس کے تحت تین ماہ تک اس جماعت کی ہر طرح کی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

الوفاق کے وکیل عبداللہ الشملاوی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ عدالت نے جماعت کو ریلیوں کے انعقاد ،پریس کانفرنسوں ،بیانات کے اجراء اور اپنے دفاتر کو استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔اس جماعت نے اسی ماہ کے اوائل میں بحرین میں 22 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔

الوفاق نے ایک بیان میں عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے ،اس کو غیر عقلی اور غیر ذمے دارانہ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری انتقال اقتدار اور انصاف کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔اس نے بیان میں بحرینی قیادت پر ملک میں سیاسی زندگی کو تہس نہس کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جعلی لوگوں کو آگے لارہی ہے۔

بحرین کے سرکاری حکام کی جانب سے فوری طور پر اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس چھوٹی خلیجی ریاست میں 2001ء میں سیاسی اصلاحات کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کے ایک سال کے بعد الوفاق کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

بحرین کی وزارت انصاف نے چند ماہ الوفاق کے خلاف قانونی درخواست دائر کی تھی اور اس میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ جماعت اپنی قانونی حیثیت کے مطابق کام نہیں کررہی ہے اور عمومی اجلاسوں کے انعقاد کے وقت شفافیت کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔

اس درخواست میں الوفاق کے ارکان پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے منامہ میں امریکا کے معاون وزیرخارجہ برائے جمہوریت ،انسانی حقوق اور محنت ٹام میلنووسکی سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد بحرینی حکومت نے اس امریکی عہدے دار کی بے دخلی کا حکم دیا تھا جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

اسی درخواست کی بنیاد پر بحرینی عدالت نے آج منگل کو مذکورہ فیصلہ سنایا ہے۔الوفاق کے سربراہ علی سلمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر ہکا بکا رہ گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''ہم اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے اور اپنی پُرامن جدوجہد اور راہ عمل کو جاری رکھیں گے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں