.

"بنغازی جلد دہشت گردوں‌ کے قبضے سے آزاد ہو گا"

لیبیا کی معیشت تباہی کے دھانے پرآ پہنچی: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف فوج کے 'الکرامہ آپریشن' کے انچارج جنرل خلیفہ خفتر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ان کی کارروائی نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب بن غازی شہر کو دہشت گردوں سے مکمل طور پاک کر لیا جائے گا۔

'العربیہ' ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنرل خلیفہ خفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد اب بھاگ رہے ہیں۔ جلد ہی بنغازی اور لیبیا کے دوسرے شہروں سے اسلامی شدت پسندوں کا مکمل طور پر صفایا کر لیا جائے گا۔

ادھر دوسری جانب امریکا اور پانچ بڑے یورپی ملکوں ‌نے لیبیا میں ‌جاری مسلسل سیاسی اور سیکیورٹی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واشگنٹن کی جانب سے جاری ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور ذرائع آمدن کے محدود ہونے کے باعث لیبیا کی معیشت تباہی کے دھانے پرآ پہنچی ہے۔ اگر ملک میں امن وامان اور سیاسی استحکام قائم نہیں ہوتا تو لیبیا ایک ناکام ریاست بن سکتا ہے۔

امریکا سمیت چھ بڑے ممالک نے لیبیا کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں تیل کی پیدوار سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ میں‌کمی برقرار رہی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہوا تو لیبیا کی معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ جائے گی۔ امریکا اور اس کے حلیف یورپی ممالک نے لیبیا میں تمام متحارب دھڑوں سے جنگ بندی کی پرزور اپیل کی گھی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور لیبیا میں تیل کی پیدوار میں پیدا ہونے والی قلت نے ملک کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ سابق مقتول صدر کرنل قذافی کے دور حکومت میں لیبیا یومیہ ایک ملین سے ڈیڑح ملین کے درمیان تیل پیدا کر رہا تھا جبکہ تیل کی موجودہ پیدوار تین لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ پر آ پہنچی ہے۔ اگر لیبیا میں عسکری گروپوں اور فوج کے درمیان تصادم بدستور جاری رہا تو تیل کی پیداوار میں مزید کمی آ سکتی ہے۔

العربیہ ٹی وی کے نامہ نگاروں کے مطابق لیبیا میں جنرل خلیفہ خفتر کی قیادت میں جاری آپریشن کے بعد شدت پسندوں ‌نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے۔ شدت پسندوں کی جانب سے براہ راست لڑائی کے بجائے اب گوریلا کارروائیوں اور خودکش بم دھماکوں‌ کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔