.

ایران کی فوجی مشقیں، جعلی امریکی بیڑے پر حملہ

مشقوں کا مقصد خطے میں سلامتی کو یقینی بنانا ہے:علی لاری جانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج نے بدھ کو آبنائے ہُرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں بڑی مشقوں شروع کی ہیں۔

فوجی مشقوں کی افتتاحی تقریب میں پاسداران انقلاب ایران کے اعلیٰ کمانڈر اور پارلیمان کے اسپیکر علی لاری جانی بھی موجود تھے۔لاری جانی نے مشقوں کے آغاز سے قبل نیوز کانفرنس میں کہا کہ خطے کی صورت حال کے پیش نظر ہم نے دفاعی بجٹ میں قابل ذکر اضافہ کر دیا ہے تا کہ خطے میں سکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔

فارس نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایلیٹ فورس نے امریکا کے ایک خودساختہ جعلی طیارہ بردار بحری جہاز کو سمندر میں کروز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے مشقوں سے متعلق نشریے میں ایک بینر بھی دکھایا گیا تھا جس پر ایران کے مرحوم سپریم لیڈر اور انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کا یہ قول لکھا تھا:''اگر امریکی خلیج فارس کے پانیوں کی تہ میں ڈوب مرنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں''۔

امریکا کی توانائی اطلاعاتی انتظامیہ کے مطابق دنیا کا تیس فی صد تجارتی تیل بحری جہازوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے ہو کر گذرتا ہے۔امریکی حکام ماضی میں اس تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی آمد ورفت میں رخنہ ڈال سکتا ہے اور وہ خلیج عدن میں گشت کرنے والے امریکی جنگی بحری جہازوں پر بھی حملہ کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ خلیج عدن دنیا کا پانچواں بڑا تجارتی آبی راستہ ہے اور مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے یورپ اور افریقہ جانے والے مال بردار اور تیل بردار بحری جہاز یہیں سے ہو کر گذرتے ہیں۔ایران نے گذشتہ چند سال کے دوران سمندری حدود اور بین الاقوامی پانیوں میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اور اس کی فورسز خلیج عدن سے گذرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو قزاقوں کے حملوں سے بچانے کے لیے بین الاقوامی فورسز کی مدد کررہی ہیں۔