.

مخالف مظاہرین پر حوثی شدت پسندوں کے حملے میں چار افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وسطی شہر البیضاء میں جمعرات کے روز اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں نے مخالفین کے ایک احتجاجی مظاہرے پر حملہ کر کے کم سے کم چار افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ ادھر البیضاء گورنری اور جنوبی شہر مآرب کے درمیان سرحد کو حوثیوں کے کسی بھی ممکنہ حملے کے پیش نظر سیل کردیا گیا ہے۔

گذشتہ روز جنوبی یمن کے شہر مآرب کے مراد قبائل نے ایک بڑے قبائلی جرگے کا اہتمام کیا جس میں جنوبی علاقے نجد میں بدامنی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جرگے میں حوثٰیوں کے ممکنہ حملے کے لیے دفاعی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق مآرب، البیضاء روڈ پر منعقد ہونے والے اس قبائلی جرگے میں قبائل کے سیکڑوں جنگجوئوں نے بھی شرکت کی۔ یاد رہے کہ اس علاقے میں پچھلے چند ماہ کے دوران حوثی شدت پسندوں اور مقامی قبائلی جنگجوئوں کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

البیضاء اور مآرب کے قبائل صدر عبد ربہ منصورھادی کے ساتھ ہیں اور انہوں نے حوثیوں کی مسلح بغاوت کو مسترد کرتے ہوئے ان سے لڑنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ گذشتہ روز ہونے والے قبائلی جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ البیضاء کی جانب سے مآرب کی طرف حوثیوں کی ممکنہ پیش قدمی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ قبائلی جرگے کے موقع پر ان کے حامی جنگجوئوں نے بھاری اسلحہ کی بھی نمائش کی جو اس بات کا اشارہ تھا کہ حوثیوں کی طرف سے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔