.

قرآن جلانے کی مرتکب فاتر العقل افغان خاتون زندہ جلا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں توہین قران کی مبینہ ’توہین‘ کے الزام میں قتل ہونے والی ایک خاتون کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ذہنی مریضہ تھی۔ پولیس نے اس واقعے کے تحقیقات کرتے ہوئے نو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

گذشتہ روز کابل میں رونما ہونے والے اس لرزہ خیز واقعے کے تفصیلات بتاتے ہوئے اعلیٰ سرکاری عہدیدار محمد فرید افضلی نے خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا کہ ہلاک کی جانے والی خاتون کا نام فرخندہ تھا اور اس کی عمر ستائیس برس تھی۔ بتایا گیا ہے کہ جمعرات کی شام کابل کی مشہور مسجد شاہ دو شامشیرا کے قریب مشتعل ہجوم نے اس خاتون کو ہلاک کیا اور پھر اس کی لاش کو جلا کر دریائے کابل میں پھینک دیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس خاتون نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کے کچھ صفحات نذر آتش کرنے کا ارتکاب کیا تھا۔

محمد فرید افضلی نے البتہ کہا ہے کہ اس بہیمانہ واقعے کے محرکات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان صدر اشرف غنی کی خصوصی ہدایات پر حقائق تک پہنچنے کے لیے تحقیقاتی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب ہجوم نے اس خاتون پر حملہ کیا تو پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ بھی کی تاکہ انہیں منشتر کیا جا سکے لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔ انہوں نے بھی کہا ہے کہ یہ خاتون گذشتہ چار برسوں سے کسی نامعلوم نفسیاتی عارضے کا علاج کرا رہی تھی۔

اس خاتون کی ہلاکت کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آ گئی ہیں، جو وہاں ہجوم میں موجود لوگوں نے اپنی موبائل فونز سے بنائی تھیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس خاتون کو تھپڑوں، مکُوں، لاتوں اور پتھروں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ افغانستان میں خواتین پر تشدد اگرچہ عام ہے لیکن وہاں کسی خاتون پر مشتعل ہجوم کی طرف سے ایسا بھیانک حملہ ماضی میں بہت کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔

میڈیا پر اس واقعے کی خبریں نشر ہونے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے وزارت داخلہ اور ملکی مذہبی امور کی اتھارٹی علماء کونسل کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات میں معاونت کریں۔ مسٹر غنی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ جج اور عدالت کے اختیارت اپنے ہاتھوں میں لے۔ بیان کے مطابق کسی شخص کو کسی دوسرے پر اس طرح تشدد کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں، چاہے وہ قصووار ہی کیوں نہ ہو۔

دوسری طرف علماء کونسل کے سربراہ احمد علی جبرائیلی نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ صدر غنی نے گزشتہ برس اپنی صدارتی مہم میں صنفی برابری کو انتہائی زیادہ اہمیت دی تھی جبکہ صدر کے عہدے پر براجمان ہونے کے بعد اپنی اہلیہ رُولا غنی کو افغان روایت سے ہٹ کر خاتون اول کا درجہ دیا تھا۔