.

ایرانی جوہری معاہدے کے فریم ورک کا امریکی خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے طویل سلسلے کے بعد ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس اتفاق رائے کا امریکی صدر براک اوباما نے خیر مقدم کیا ہے۔

معاہدے کے تحت ایران اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں کمی لائے گا جس کے بدلے میں اس پر عائد پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔ ایران، امریکا اور جرمنی نے کہا ہے کہ آٹھ روز کی گفت و شنید کے بعد اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

جامع جوہری معاہدہ 30 جون تک تشکیل دے دیا جائے گا۔

اتفاقِ رائے کے اعلان کے تھوڑی دیر بعد امریکی صدر براک اوباما نے اپنے خطاب میں اس ’تاریخی معاہدے‘ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کے عمل درآمد پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور ’اگر ایران نے خلاف ورزی کی تو دنیا جان جائے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اعتماد پر نہیں بلکہ ’غیر معمولی تصدیق‘ کے عمل پر قائم کیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ فریم ورک پر مہینوں کے ’سخت اور اصولی سفارت کاری کے بعد اتفاق ہوا ہے اور یہ کہ یہ ’ایک عمدہ معاہدہ ہے۔‘

امریکا کے مطابق اس معاہدے کے خاکے میں درج ذیل شرائط شامل ہیں:

ایران اپنے سینٹری فیوجوں میں دو تہائی کمی لائے گا اور اپنے ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیئم کو بھی کم کرے گا
ایران کے فالتو سینٹری فیوج اور افزدوگی کی تنصیبات پر عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی [آئی اے ای اے] نظر رکھے گا
آئی اے ای اے ایران کی تمام جوہری تنصیبات کا باقاعدگی سے معائنہ کرتی رہے گی
ایران اپنے ارک میں واقع بھاری پانی کے ری ایکٹر میں ایسی تبدیلیاں کرے گا کہ وہاں ہتھیار بنانے کے اہل پلوٹونیئم نہ بنایا جا سکے
ایران پر عائد امریکا اور یورپی یونین کی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی، لیکن اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو انھیں دوبارہ عائد کر دیا جائے گا
اس معاہدے پر عمل درآمد کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور اگر ایران نے خلاف ورزی کی تو دنیا جان جائے گی۔

ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مغربی ممالک نے ایران کی جانب سے جوہری بم بنانے کے خدشے کے پیشِ نظر اس پر سنگین پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ایران مذاکرات کے ذریعے ان پابندیاں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایران نے سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزین میں پی پلس فائیو سے مذاکرات کیے۔ یہ ممالک کا ایک گروہ ہے جس میں امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، چین، روس کے علاوہ جرمنی شامل ہیں۔ یہ مذاکرات 31 مارچ کو ختم ہو جانا چاہیے تھے لیکن بعد میں ان کی حتمی مہلت میں توسیع کرنا پڑی۔

ادھر سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے کہا: ’حل تلاش کر لیا گیا ہے، فوری طور پر مسودے پر کام شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

تاہم اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ٹوئٹر ہی پر کہا: ’کوئی بھی معاہدہ ہو، اس میں ایران کے جوہری پروگرام کی صلاحیتوں کو خاصی حد تک رول بیک کرنا اور اس کی دہشت گردی اور جارحیت کو ختم کرنا لازمی ہو گا۔‘