ایرانی صدر کا یمن میں فضائی حملے روکنے کا مطالبہ

خطے کے ممالک بحران کے سیاسی حل کے لیے کوششیں کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے خطے کے ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ بحران کے سیاسی حل کے لیے کوششیں کریں اور بھائی چارے کا جذبہ اپنائیں۔

حسن روحانی نے جمعرات کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی تقریر میں کہا ہے کہ''یمن جیسی عظیم قوم کو بمباری سے جھکایا نہیں جاسکتا ہے۔آئیے ہم سب مل کر جنگ کے خاتمے سے متعلق سوچیں اور جنگ بندی سے متعلق بات کریں''۔

انھوں نے کہا:''میں خطے کے ممالک سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آئیے بھائی چارے کا جذبہ اپنائیں۔ایک دوسرے کا اور دوسری اقوام کا احترام کریں۔کسی قوم کو بمباری سے جھکایا نہیں جاسکتا ہے''۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ''معصوم بچوں کو قتل نہ کریں،آئیے جنگ کے خاتمے سے متعلق سوچیں۔جنگ بندی اور یمن کے مصیبت زدہ عوام کے لیے انسانی امداد کی بات کریں''۔

ان کا کہنا تھا کہ فضائی حملے اور بمباری غلط ہے۔انھوں نے شام اور عراق کی مثالیں دیں جہاں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے داعش کے جنگجوؤں کو حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ''آپ بہت جلد یہ جان لیں گے کہ آپ یمن میں ایک غلطی کررہے ہیں''۔ تاہم انھوں نے کسی خاص ملک کا نام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ ظاہر ہے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی جانب تھا جو یمن میں حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادیوں پر گذشتہ دو ہفتوں سے حملے کررہے ہیں۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ''ہمیں یمنیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکیں۔آئیے اس بات کو بھی تسلیم کریں کہ یمن کا مستقبل یمنی عوام کے ہاتھ میں ہوگا،کسی اور کے ہاتھ میں نہیں''۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک نے یمن کے منتخب صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی حمایت میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے جبکہ ایران حوثیوں کی پشتی بانی کررہا ہے لیکن وہ اس سے انکاری بھی ہے کہ وہ حوثیوں کو مالی یا عسکری امداد دے رہا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے بھی ایران پر بدھ کو ایک نیوزکانفرنس کے دوران یمن کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا۔دوسری جانب گذشتہ روز ہی ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے اسلام آباد کے دورے کے موقع پر پاکستان پر زوردیا تھا کہ وہ یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کےلیے کوششیں کرے اور سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد میں شامل نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں