داعش کے خلاف جنگ ہار نہیں رہے: اوباما
امریکی صدر براک اوباما نے عراق میں اہم مقامات پر دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کے قبضے کو ایک دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ میں امریکا اور اس کےاتحادیوں کی ابھی ہار نہیں ہوئی ہے۔
اوباما نے عراقی شہر رمادی پر داعش کے قبضے کے بعد ایک امریکی نیوز میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا "میرے خیال میں ہم جنگ ہار نہیں رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ رمادی کی شکست ایک دھچکا ہے۔"
اگست 2014ء سے امریکی اور اتحادی افواج صدر اوباما کے حکم کے تحت عراق اور شام میں 6000 فضائی کارروائیاں کرچکی ہیں تاکہ داعش کو کچلا جاسکے۔
اوباما نے عراق میں امریکی زمینی افواج کی واپسی کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ مگر رمادی میں شکست نے امریکی حکمت عملی اور عراقی حکومت کی ساکھ کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
اوباما نے رمادی میں شکست کا الزام عراق کی سیکیورٹی فورسز کی ٹریننگ اور تازہ کمک کی کمی کے سر پر ڈال دیا۔ اوباما کے مطابق "عراقی فورسز رمادی میں ایک سال سے باقاعدہ مدد کے بغیر لڑائی میں مصروف تھیں۔"
امریکا کی جانب سے مسلسل فضائی کارروائیوں کے باوجود کئی مبصرین کا خیال ہے کہ عراقی فوج مشکل سے ہی تربیت یافتہ عراقی جنگجوئوں کے خلاف فتح حاصل کرپائے گی۔
واشنگٹن اور بغداد دونوں ہی داعش کے خلاف جنگ میں نسلی اور مذہبی ملیشیائوں کے استعمال پر مجبور ہوگئے ہیں اوران گروپوں کی حمایت کررہے ہیں۔ امریکا نے عراق کی مرکزی حکومت پر دبائو ڈالا ہے کہ وہ رمادی کے سنی قبیلوں کے افراد کو داعش کے خلاف لڑائی میں شامل کرے مگر عراق کی شیعہ حکومت ایسا قدم اٹھانے میں تذبذب کا شکار رہی ہے۔
-
روس داعش کے خلاف جنگ میں تعاون کرے:حیدرالعبادی
عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے روس سے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ میں ...
بين الاقوامى -
الرمادی کے مشرق میں داعش کا تیسرا حملہ پسپا
سخت گیر جنگجو گروپ صوبہ الانبار میں اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے کوشاں
مشرق وسطی -
داعش کا شام کے تاریخی شہر تدمر پر مکمل قبضہ
صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اتحادی ملیشیائیں لڑائی میں شکست کے بعد پسپا
مشرق وسطی