.

عالمی اقتصادی فورم ،اردن میں 18 ارب ڈالرز کے منصوبوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بارے میں عالمی اقتصادی فورم کا آغاز کردیا ہے اور اس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اردن میں آیندہ ایک عشرے کے دوران اٹھارہ ارب ڈالرز مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے اس دس سالہ اقتصادی منصوبے کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سرکاری اور نجی شراکت داری پر مبنی ہوں گے۔اس سے ہمیں انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے اور وسائل کو ہمہ جہت بنانے میں مدد ملے گی ۔انھوں نے سعودی عرب ،کویت اور متحدہ عرب امارات کا گذشتہ برسوں کے دوران اردن کو گراں قدر امداد مہیا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں الغنیم انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو عمر الغنیم نے نیوزکانفرنس میں کہا کہ خطے کی خوش حالی میں روزگار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ بے روزگار نوجوان ہمارے خطے ہی میں موجود ہیں۔

انھوں نے خطے کے بیشتر ممالک میں دیوالیہ پن سے متعلق قوانین کی عدم موجودگی کا بھی ذکر کیا جس کے پیش نظر لوگ اپنے کاروبار شروع کرنے میں ہچکچاتے ہیں اور اگر کاروبار کرنے والے لوگ ناکام ہوجائیں تو انھیں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی حکومتوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ یہ عمل ناقابل قبول ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے افتتاح کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور فلسطینی صدر محمود عباس بھی موجود تھے۔فورم ہفتے کے روز بھی جاری رہے گا اور اس میں توقع ہے کہ قریباً آٹھ سو کاروباری اور سیاسی شخصیات شرکت کریں گی۔