خامنہ ای سے معافی مانگنے کے باوجود 22 قیدی لٹکا دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران کی ایک جیل میں سزائے موت کے تحت رکھے گئے 22 افراد کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے معافی مانگنے اور اپنی سزائوں میں تخفیف کا مطالبہ کرنے کے باوجود پھانسی دے دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنوبی تہران کے کرج شہرمیں قائم "قزل حصار" نامی جیل میں قید 22 ملزمان نے حال ہی میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے معافی مانگتے ہوئے اپنی سزائوں میں تخفیف کی اپیل کی تھی تاہم قیدیوں کے اس مطالبے کے ایک روز بعد انہیں اجتماعی طور پر سزائے موت دی دی گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق سزائے موت کے قیدیوں نے حال ہی میں جیل میں با جماعت نماز کا اہتمام کیا، جہاں انہوں نے اللہ سے بھی گڑ گڑا کر دعائیں کی تھیں اور سپریم لیڈر سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ ان کی سزائوں میں تخفیف کرائیں تاہم اس کے اگلے ہی روز ان سب کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ موت سےہمکنار کیے گئے قیدیوں میں سے بیشتر پر منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں نے حال ہی میں جیل کے اندر ایک پر امن مظاہرہ بھی کیا تھا جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے اپنے جرم کی معافی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے گروپوں کی رپورٹس کے مطابق پچھلے دو ہفتوں کے دوران بھی اسی جیل میں 22 قیدیوں کے ایک گروپ کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔ یوں تین ہفتوں کے اندر "قزل حصار" جیل میں قید 44 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ایران میں بعض معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کو سنگین نوعیت کی سزائیں سنائے جانے اوران سزائوں پر بے رحمی کے ساتھ عمل درآمد پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے تہران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر محمود امیری مقدم نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن قیدیوں کو سزائے موت دی گئی ہے ان میں سے کسی کا بھی منصفانہ ٹرائل نہیں کیا گیا۔ ان میں سے بیشتر پر دوران حراست تشدد کرنے کے بعد جرم مسلط کیا گیا حالانکہ ان میں کئی بے قصور بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر کس قدر افسوسناک ہے کہ قیدی اپنے جرم کا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت وقت سے معافی مانگتے ہیں اور اپنے جرم سے توبہ تائب ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت انہیں معاف نہیں کرتی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا کہ ایران میں جنگ کا قانون ہے اور کسی کی معافی کی درخواست پرغور تک نہیں کیا جاتا ہے۔

محمود امیری نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران میں قیدیوں کو دی جانے والی ظالمانہ سزائوں کا نوٹس لے اور جیلوں میں بغیر کسی جرم کے ڈالے گئے قیدیوں کو دی گئی سزائوں پرعمل درآمد رکوائے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کا دھندہ بلا شبہ ایک سنگین جرم ہے لیکن اگر کوئی اس سے توبہ تائب ہو کر اپنے جرم کی معافی مانگنا چاہے تو اسے سزادینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ایران میں قیدیوں کو اندھا دھند پھانسی پر لٹکائے جانے کے رحجان کی اقوام متحدہ سمیت عالمی تنظیموں کی جانب سے بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔ رواں ماہ میں اقوام متحدہ کی جانب سے ایک بیان میں تین ہفتوں میں 98 قیدیوں کو سزائے موت دیے جانے کو صریح ظلم قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں احمد شہید اور کریسٹوو ھاینز نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ 9 سے 26 اپریل کے دوران ایران کی مختلف جیلوں میں قید سزائے موت کے 98 قیدیوں کو موت کےگھاٹ اتار دیا گیا۔

احمد شہید کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اندھا دھند پھانسی کی سزائوں کے باوجود عالمی سطح پر یہ تسلیم نہیں کررہی ہے کہ تہران میں اتنی بڑی مقدار میں پھانسیاں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے واقعات کو انسانیت کی تذلیل اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قراردیا۔

انسانی حقوق کے مندوب کریسٹو ھائنز کا کہنا ہے کہ ایران میں غیر منصفانہ ٹرائل کے تحت قیدیوں کو کڑی سزائیں دینا ایک صدمے سے کم نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی عدالتوں میں قیدیوں کے ٹرائل پربہت سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ انقلاب عدالتیں انصاف کا قتل عام کرتی ہیں۔

انہوں نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال میں اب تک چھ سیاسی کارکنوں، سات خواتین سمیت 340 قیدیوں کی سزائے موت پرعمل درآمد کیا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر کے ٹرائل کے وقت انہیں وکیل کی خدمات کے حصول کا حق بھی نہیں دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں