بوکو حرام کے سربراہ پر انسانیت مخالف جرائم پر فرد الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سپین کے اسٹیٹ پراسیکیوٹر نے نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ پر 2013ء میں ایک نائیجیرین قصبے پر حملے کو بنیاد بنا کر دہشت گردی اور انسانیت مخالف جرائم پر فرد الزام عاید کی ہے۔اس حملے میں ایک ہسپانوی نن کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

سپین میں بوکو حرام کے خلاف زیر سماعت کیس کا تعلق ان کے نائیجیریا کے مشرقی قصبے گانیے میں حملے سے ہے۔ بوکو حرام کے جنگجوؤں نے اس قصبے پر 22 مارچ 2013ء کو حملہ کیا تھا اور پچیس افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

عدالتی دستاویز کے مطابق جنگجوؤں نے نن ماریہ جیسس مئیر پر حملہ کیا تھا مگر وہ ان کے چُنگل سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئی تھی اور وہیں چھپ گئی تھی۔اس کو بعد میں نائیجیرین سکیورٹی فورسز نے بچایا تھا۔عدالت اب نن سے واقعے سے متعلق بیان قلم بند کرے گی اور بین الاقوامی پولیس ایجنسی کو بوکو حرام سے متعلق اسٹڈی کے لیے کہے گی۔

واضح رہے کہ سپین کی عدالتیں کائناتی دائرہ اختیار کے تحت انسانیت مخالف جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کرسکتی ہیں۔اس تصور کے تحت انسانیت مخالف جرائم کے مقدمات میں ملوّث افراد کے خلاف سپین میں سرحدوں سے ماورا بھی مقدمات چلائے جاسکتے ہیں۔اسی اصول کے تحت سپین کے ایک جج نے سنہ 1998ء میں چلّی کے سابق آمر اگسٹو پنوشے کے خلاف لندن میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

تاہم سپین کی موجودہ حکومت نے گذشتہ سال کائناتی دائرہ اختیار سے متعلق قانون میں ترمیم کردی تھی۔اب یونیورسل دائرہ اختیار کے تحت مقدمے کی سماعت کے لیے ہسپانوی تعلق ضروری ہے ۔یعنی متاثرہ فرد یا حملے کا ملزم ہسپانوی ہونا چاہیے۔سپین کے سٹیٹ پراسیکیوٹر نے بوکو حرام کے سربراہ کے خلاف اس کیس میں متاثرہ ہسپانوی خاتون پر حملے کو انسانیت مخالف جرائم کی فرد الزام عاید کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں