سعودی عرب:اجتماعی شادی میں کم مہرجوڑے کے لے انعام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے مشرقی شہر الاحساء میں فیملی تکافل اور شادی بیاہ میں شہریوں کو سہولت فراہم کرنے والی ایک تنظیم کی جانب سے اجتماعی شادی کی تقریب میں 15 ہزار ریال مہر رکھنے والے ایک نوجوان کو خصوصی انعام دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اجتماعی شادی کی تقریب میں مجموعی طور پر 420 جوڑوں کا اجتماعی نکاح کرایا گیا۔ تقریب میں الاحساء کے گورنر شہزادہ بدر بن جلوی، مخیر حضرات اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ تقریب کے منتظم ادارے کا کہنا ہے کہ اجتماعی شادی کا اہتمام ٹھوس بنیادوں پر گھر داری کی تشکیل اور عائلی زندگی کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

تقریب میں مقامی روایتی نغموں کی گونج میں عمر اور مہر میں سب چھوٹے دلہا المہام جو کہ جسمانی طور پر معذور ہیں، کو انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ کم مہر رکھنے پر مشعل بن المشعل اور عبدالالہ ابراہیم الکری کو بھی خصوصی انعامات دیے گئے۔ تقریب میں 19 سالہ ابراہیم بن خلیل البوحسن کو کم عمر دلہا ہونے کی بنیاد پر انعام دیا گیا۔

تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل الشیخ عادل بن سعد الخوفی کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے دو سال سے اجتماعی شادی کی تقریبات کا اہتمام کررہے ہیں۔ اب تیسرا سال جاری ہے۔ ان تین سال میں اجتماعی شادی کے پروگرام میں حصہ لینے والے جوڑوں کی تعداد میں 400 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی شادی کی تقریبات اور اس کے تمام لوازمات کی بروقت تکمیل میں انہیں اہل خیر کا تعاون حاصل رہا اور انہیں کسی کو شادی کے لیے انتظار نہیں کرانا پڑا ہے۔

خیال رہے کہ فلاحی تنظیم رواں سال تیرہ اجتماعی شادیوں کا ارادہ رکھتی ہے۔ تنظیم سے شادی کے لیے مجموعی طور پر 1904 مرد وخواتین نےاستفادہ کیا۔ اب تک اجتماعی شادی کی تقریبات پر 13.880.000 ریال کی لاگت آئی ہے۔ تنظیم کے زیراہتمام 1426ھ میں 40 مرد وخواتین کو باہم رشتہ ازدواج میں منسلک کیا گیا تھا۔ رواں سال اجتماعی شادیوں کے 13 پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں