شام میں فوج نہیں، صرف عسکری مشیر بھیجے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

#ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بارپھر #شام میں ایرانی فوجیوں کی موجودگی کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ صدر #بشار_الاسد کی مدد اور رہ نمائی کے لیے صرف عسکری مشیر بھیجے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ #تہران کا کوئی فوجی شام کے محاذ جنگ میں شامل نہیں۔

خبر رساں ایجنسی 'فارس' نے وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ایران اور شام کے تعلقات اور تعاون میں کسی قسم کی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ ہمارے عسکری مشیر شام میں موجود ہیں جو بشارالاسد کی معاونت کررہے ہیں۔

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے ایرانی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ #امریکا کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ایران شام میں مزید سیکڑوں جنگجو یا فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی اخبارات نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی حکومت شام میں صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے مزید فوجی اور جنگجو بھیجنے کی تیاری کررہا ہے۔ یہ فوجی شامی حکومت کے زیرانتظام حساس علاقوں میں سیکیورٹی کےفرائض انجام دیں گے۔

شام میں ایرانی فوجی بھجوانے کی خبریں محض ذرائع ابلاغ تک محدود نہیں ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کی خارجہ و سیاسی امور سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین علاء الدین بروجردی کا بھی حال ہی میں ایسا ہی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک شامی رجیم کی ہرممکن مدد کررہا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مزید جنگجو شام بھیجےجا سکتے ہیں۔'مزید' سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شام میں ایران فوج اور جنگجو پہلے سے بھی موجود ہیں۔

تین اکتوبر کو ایرانی اخبارات میں ذرائع کے حوالے سے یہ خبر چھپی تھی کہ پاسداران انقلاب کے 1700 اہلکار "فرشاد حسون زادہ" نامی فوجی بریگیڈیئر کی سربراہی میں شام روانہ کیے جا چکے ہیں۔ ان فوجیوں کا تعلق انقلابی گارڈ کی "صابرین" یونٹ سے ہے۔ 13 اکتوبر کو یہ خبرآئی کہ فرشاد حسونی زادہ کو #اللاذقیہ شہر میں لڑائی میں ہلاک کردیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی" سحام نیوز" نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران اور دمشق کی ترجیح روس کے ساتھ مل کر شامی اپوزیشن کو طاقت کے ذریعے کچلنا ہے اور مرکزی صوبوں دمشق، حمص، حماۃ، ساحلی شہروں اللاذقیہ اور طرطوس اور ادلب جیسے شہروں پر کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔

ایرانی اخبارات نے پچھلے دو دنوں کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم "القدس" ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی شام میں جنگجوئوں کے ہمراہ لی گئی تازہ تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ یہ تصاویر اللاذقیہ میں حزب اللہ کے جنگجوئوں کے ہمراہ لی گئی ہیں جہاں انہیں " لبیک یا علی " کے نعرے بھی لگاتے دکھایا گیا ہے۔

شام میں ایرانی فوج کی عدم موجودگی کے دعوےایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پچھلے ایک ہفتے کے دوران شام ہی کے محاذ پر اپوزیشن کے ساتھ لڑائی میں 11 افسروں سمیت 20 ایرانی فوجی اور دوسرے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں بہ ذات خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ شام میں ایران کے فوجی براہ راست محاذ جنگ میں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں