.

اسرائیل اشتعال انگیز بیانات بند کرے: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وائٹ ہاؤس نے انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ وہ اشتعال انگیز بیانات جاری کرنے سے گریز کریں۔

وائٹ ہاؤس نے یہ انتباہ صہیونی وزیراعظم کی ایک حالیہ تقریر کے ردعمل میں جاری کیا ہے جس میں انھوں نے یہ بے بنیاد دعویٰ کیا تھا کہ مفتیِ اعظم فلسطین امین الحسینی نے ایڈولف ہٹلر کو یورپ میں یہود کے قتل عام پر اکسایا تھا۔

نیتن یاہو کے اس متنازعے دعوے کے ردعمل میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان ایرک شلز نے نیوز بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ''میرے خیال میں یہاں وائٹ ہاؤس میں اس بات میں کوئی شک نہیں پایا جاتا ہے کہ ہولو کاسٹ کا کون ذمے دار تھا جس کے دوران ساٹھ لاکھ یہود کا قتل عام کیا گیا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم سرکاری اور نجی طور پر طرفین پر یہ زور دیتے رہیں گے کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات ،الزامات یا اقدامات سے گریز کریں کہ جن سے تشدد کو شہ مل سکتی ہو''۔ترجمان کا کہنا تھا:''ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ اشتعال انگیز بیانات کو بند کرنے کی ضرورت ہے''۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ ردعمل برلن میں وزیرخارجہ جان کیری اور نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔جان کیری نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں پر زوردیا تھا کہ وہ اشتعال انگیزی کا سلسلہ بند کردیں۔

انتہا پسند نیتن یاہو نے گذشتہ منگل کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں منعقدہ عالمی صہیونیت کانگریس سے تقریر میں کہا تھا کہ ''مفتی امین الحسینی اور ہٹلر کے درمیان نومبر1941ء میں ملاقات ہوئی تھی۔اس وقت تک ہٹلر یہود کو صفحہ ہستی سے مٹانا نہیں چاہتا تھا بلکہ یہود کو یورپ سے بے دخل کرنا چاہتا تھا مگر حاجی امین الحسینی نے ہٹلر سے یہ کہا کہ ''اگر آپ انھیں بے دخل کریں گے تو یہ تمام لوگ فلسطین آجائیں گے''۔اس پر ہٹلر نے کہا کہ ''مجھے ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟''اس کے جواب میں فلسطینی مفتی نے کہا تھا کہ ''انھیں جلادو''۔

نیتن یاہو کے اس دعوے پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔فلسطینی قائدین اور اسرائیلی حزب اختلاف نے ان پر ماضی کی تاریخ کو مسخ کرنے کا الزام عایدکیا ہے جبکہ مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان کا دعویٰ تاریخی طور پر درست نہیں ہے مگر انھوں نے اس تنقید کے باوجود اپنا یہ من گھڑت بیان واپس نہیں لیا ہے بلکہ اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ ''میرا مقصد ہٹلر کو ہولوکاسٹ سے بری الذمہ قراردینا نہیں تھا بلکہ یہ ظاہر کرنا تھا کہ فلسطینیوں کے بابائے قوم قبضے کے بغیر ہی یہود کو تباہ کرنے کے خواہاں تھے''۔

صہیونی وزیراعظم نے برلن روانہ ہونے سے قبل گذشتہ بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''وہ ہٹلر کی ہولوکاسٹ سے ذمے داری کو کم نہیں کرنا چاہتے۔وہ حتمی حل کے ذمے دار تھے اور انھوں نے ہی فیصلہ کیا تھا مگر اس کے ساتھ مفتی الحاج امین الحسینی کے کردار کو نظر انداز کرنا غیرمنطقی ہوگا کیونکہ انھوں نے یورپی یہودیوں کے صفایا کے لیے ہٹلر کی حوصلہ افزائی کی تھی''۔

نیتن یاہو نے یہ انتہاپسندانہ اشتعال انگیز بیان فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان غربِ اردن کے علاقے میں تشدد کے حالیہ واقعات کے تناظر میں دیا تھا۔گذشتہ ایک ماہ کے دوران ان واقعات میں دس اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر فلسطینیوں کے چاقو حملوں میں مارے گئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے چھیالیس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔