.

حکومت نواز یمنی جنگجوؤں کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی

اس اقدام سے محاذ جنگ پر بڑی ڈرامائی تبدیلی کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغیوں کے زیراثر شہر تعز میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے لڑنے والی فورسز اور سرکاری فوج کو پہلی بار جدید ہتھیار، ٹینک شن اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنانے والے "ٹائو" طرز کے راکٹ بھی مہیا کیے گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کے محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ تعز شہر میں اسلحہ اور گولہ بارود کی تازہ سپلائی ہوائی جہازوں کے ذریعے اتاری گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعز میں القصر کے مقام پر موجود حوثی باغیوں پر جدید ہتھیاروں اور راکٹوں سے حملے کیے گئے جس پر دشمن حیران رہ گیا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ تعز میں مزاحمتی ملیشیا اور حکومت نواز فوج کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی سے محاذ جنگ کا نقشہ جلد بدلے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ مزاحمتی قوتیں جلد ہی تعز کے تمام علاقوں سے حوثی باغیوں اور علی صالح کے وفاداروں کو نکال باہر کریں گی۔

رپورٹ کے مطابق تعز میں 48 گھنٹے میں اتحادی ممالک کے طیاروں کے ذریعے حکومتی فورسز کو اسلحہ کی دوسری کمک پہنچائی گئی ہے۔ تعز میں زمینی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے چھاتہ بردار فوج بھی اتاری گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔

ادھر تعز شہر میں مقبنہ گورنری میں مزاحمتی فورسز کے حملے میں علی صالح اور حوثیوں کے 15 جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔ زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ اتحادی ملکوں کے جنگی طیاروں نے بھی حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں جہاں حوثیوں کے مضبوط مراکز ہیں وہاں گذشتہ شب اور آج ہفتے کے روز مسلسل فضائی حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

مغربی مآرب میں صرواح کے مقام پر اور اِب گورنری میں بھی حوثی باغیوں کے متعدد ٹھکانوں پر بمباری کی گئی ہے۔ البیضاء شہر میں حکومت نواز قبائلی ملیشیا نے حملہ کرکے حوثی شدت پسندوں کو غیر معمولی جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا ہے۔