برسلز میں دہشت گردی کا خدشہ، میٹرو ٹرین بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دہشت گردی کے شدید خطرات کے پیش نظر میٹرو ریلوے سروس سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کا پورا نظام بند کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ برسلز میں یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے صدر دفاتر بھی واقع ہیں۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں تیرہ نومبر کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے بیلجیئم میں بھی اس حملے میں ملوث مشتبہ عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور پورے ملک میں سکیورٹی اہلکاروں کو بہت چوکنا کیا جا چکا ہے۔ تاہم دارالحکومت برسلز میں سکیورٹی غیر معمولی طور پر ہائی الرٹ پر ہے اور ہفتہ کے روز ممکنہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف احتیاطی اقدامات کے طور پر شہر میں ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ سروس ایک روز کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔

بیلجیئم پولیس اور سکیورٹی سروسز کا کہنا ہے برسلز میں ’دہشت گردانہ حملوں کا بہت سنجیدہ اور حقیقی خطرہ‘ ہے اور شہریوں کو چاہیے کہ اپنے گھروں سے باہر وہ پر ہجوم علاقوں سے دور رہیں۔ رائیٹرز کے مطابق پیرس میں دہشت گردانہ حملوں کا ایک بڑا مشتبہ ملزم بیلجین شہری ہے جو ابھی تک مفرور ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔

بیلجیئم کی حکومت نے دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے ملک میں سکیورٹی اقدامات کے لیے چار مختلف درجے طے کر رکھے ہیں اور ہفتے کے روز برسلز کے لیے دہشت گردی کے ایسے سب سے شدید یا چوتھے درجے کے خطرے کا اعلان کر دیا گیا۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی ایک روزہ بندش کا اعلان برسلز میں ملکی حکومت کے قائم کردہ بحرانی مرکز نے کیا۔ اس کرائسس سینٹر نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ شہر میں چاروں بڑی میٹرو سروس لائنوں کی بندش کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا۔ تاہم اس مرکز نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان نئے اور انتہائی سخت اقدامات کی وجہ دہشت گردی کے شدید خطرات سے متعلق کس طرح کی نئی اطلاعات بنیں۔

پیرس میں تیرہ نومبر کے دہشت گردانہ حملوں کا ایک اہم مشتبہ ملزم صالح عبدالسلام نامی ایک 26 سالہ عسکریت پسند بھی ہے، جو برسلز ہی کا رہنے والا ہے۔ پیرس حملوں کے دوران صالح کے بڑے بھائی براہیم عبدالسلام نے ایک معروف اور پرہجوم ریستوراں میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ پولیس کے تفتیشی ماہرین کے بقول پیرس حملوں اور اپنے بھائی کی ان حملوں میں موت کے بعد صالح عبدالسلام واپس برسلز آ گیا تھا۔

فرانس میں ان حملوں کے بعد دہشت گردی کے انہی خطرات کے باعث گزشتہ ہفتے برسلز ہی میں بیلجیئم اور اسپین کی قومی فٹ بال ٹیموں کے مابین پہلے سے طے شدہ ایک دوستانہ میچ بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

ان حملوں کے بعد سے فرانس اور بیلجیئم کے ساتھ ساتھ مختلف یورپی ملکوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کئی مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر چکے ہیں جبکہ ان حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ، مراکشی نژاد بیلجیئم کا شہری عبدالحمید اباعود بدھ 18 نومبر کے روز پیرس کے شمالی علاقے سینٹ ڈینیس میں پولیس اور فوج کی کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی ایک بڑی کارروائی میں دو دیگر افراد کے ساتھ مارا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں