گاڑی سے اسٹیکر کیوں نہ اتارا؟ امریکی پلمبر کا ہرجانے کا دعویٰ
امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایک پلمبر کو اس وقت شدید حیرت ہوئی جب ماضی میں اس کی کمپنی کے زیر استعمال رہنے والا ایک ٹرک شام میں موجود شدت پسندوں کے ہاتھ لگ گیا اور اس کی تصاویر انٹرنیٹ پر شائع ہوگئیں۔ پلمبر مارک گاڑی خریدنے والی کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔
پلمبر مارک اوبرہولٹزر نے کہا کہ ان کی کمپنی کے زیر استعمال رہنے والا ایک ٹرک شامی شہر حلب کے قریب ایک شدت پسند گروپ کے استعمال میں دکھایا گیا جس کے بعد انہیں اور ان کی کمپنی کو ہزاروں کالز موصول ہوئیں جن میں انہیں دھمکیاں دی گئیں۔
مارک کی جانب سے جانب سے دائر مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ یہ کالز اتنی شدت سے بھرپور تھیں کہ اوبرہولٹرز کو اپنی کمپنی بند کرنا پڑی اور وہ ٹیکساس میں موجود اپنے گھر سے ایک ہفتے تک دور رہنے پر مجبور ہوگئے۔
اوبرہولٹرز نے امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی اور ایف بی آئی کی جانب سے خبردار کئے جانے کے بعد اپنے ذاتی تحفظ کے لئے بندوق بھی رکھنا شروع کردی۔ وہ اپنے کاروبار اور وقار کو پہنچنے والی ضرب کے ازالے کے طور پر دس لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اوبرہولٹزر نے بتایا کہ انہیں ایک سیلزمین نے اپنی کمپنی کا اسٹیکر گاڑی سے اتارنے سے منع کردیا تھا۔ سیلزمین کا کہنا تھا کہ اسٹیکر اتارنے سے گاڑی کا پینٹ خراب ہوسکتا ہے اور ان کے پاس کچھ ایسا بہتر آلہ موجود ہے جس سے پینٹ خراب کئے بغیر کمپنی کا اسٹیکر اتارا جاسکتا ہے۔
کمپنی کے نام اور فون نمبر والا یہ اسٹیکر ہٹایا نہیں گیا مگر یہ گاڑی نیلام کرکے ترکی بھیج دی گئی۔ مارک کے مطابق ان کی کمپنی کو تصویر کی اشاعت کے صرف پہلے روز ہی 1000 سے زیادہ فون کالز آئیں۔
اس کے بعد ہر روز 100-200 کالز ہر روز آتی رہیں جو کہ اب تک جاری ہیں۔