’ارامکو میں سعودی تیل کے ذخائر ریاستی ملکیت ہیں‘

شیل آئل قیمتوں کے توازن میں کردار ادا کرسکتا ہے: سعودی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

#سعودی_عرب کے وزیر صحت اور قدرتی تیل وگیس کے شعبے میں کام کرنے والی سرکاری فرم ’#ارامکو‘ کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز #خالد_الفالح نے کہا ہے کہ تیل کے محفوظ ذخائر سعودی مملکت کی ذاتی ملکیت ہیں، ان کو ارامکو کے وسائل کی ویلیو قرار دے کر فروخت نہیں کیا جائے گا۔

سعودی وزیرصحت نے ان خیالات کا اظہار #ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر’’العربیہ‘‘ سے گفتگو کے دوران کہی۔

الفالح نے کہا کہ ارامکو کمپنی کے پاس موجود ذخائر کا تعین تیل کی نقد قیمت کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ارامکو سمیت کئی دوسری سرکاری فرموں اور صحت کے شعبے کے تحت کام کرنے والے اداروں کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی تجویز زیرغور ہے، ہم سعودی عرب کو مضبوط معاشی ملک اور عالمی سطح پر اس کے موثر اقتصادی کردار کے لیے کمپنی کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی تجاویز پرغور کررہے ہیں۔ سعودی فیصلہ سازوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ارامکو کے پاس بڑے اقتصادی سیکٹر بنانے کے نہ صرف وسائل موجود ہیں بلکہ کمپنی اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی بھی اہلیت رکھتی ہے۔

العربیہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے الفالح کا کہنا تھا کہ ارامکو کا پہلا میدان مملکت میں تیل، گیس اور پیٹرو۔ کیمیکل کے شعبے میں موجود وسائل کو منظم کرنا ہے۔ محفوظ وسائل صرف مملکت کی ملکیت ہیں۔ کمپنی کی صلاحیت محفوظ ذخائر کو نقد قیمت میں تبدیل کرنا ہے۔ محفوظ ذخائر فروخت نہیں کیے جائیں گے مگرکمپنی کی ذخائر کو قیمت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت برقرار رہے گی جسے فروخت کیا جائے گا۔

عالمی اقتصادی صورت حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے سعودی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’’دو اہم واقعات نے عالمی معیشت کوغیر معمولی طور پر متاثر کیاْ۔ عالمی معیشت کو متاثر کرنے دو بڑے اسباب میں پہلا سبب چین کی معاشی رفتار میں سستی اور گھریلو کھپت پر زیادہ سے زیادہ انحصار اور دوسرا اہم سبب تیل کی سپلائی کے سرپلس میں اضافہ ہے۔ سنہ 2015ء کے دوران ہمیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں توازن کی توقع تھی مگر پچھلے سال شیل آئل کی پیداوار کم ہوتی چلی گئی۔ عراق اور بعض دوسرے ملکوں کے سرپلس نے اس کمی کا متبادل مہیا کیا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں ارامکو کمپنی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب شیل آئل کو ختم کرنے پر غور نہیں کررہا ہے۔ ہمیں عالمی منڈی میں قیمتوں کے توازن کی ضرورت ہے۔ ہم بہ خوبی جانتے ہیں کہ تیل کی بڑھتی طلب کے مطابق ہی ہر سال تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل بعد میں بھی ہمیں شیل آئل کی ضرورت رہے گی۔ اس لیے اسے ختم کرنے کا نہیں سوچ سکتے۔ سعودی عرب سمیت تیل پیدا کرنے والےممالک کا خیال ہے کہ شیل آئل عالمی منڈی طلب اور رسد کے درمیان توازن پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں