بیت المقدس: مسجد اقصٰی میں کیمرے لگانے پر تنازعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مسلمانوں کے قبلہ اول اور مقبوضہ بیت المقدس کے سب سے مقدس مقام پر وڈیو کیمرے لگانے کے بارے میں قیاس کیا جارہا تھا کہ ان سے کئی مہینوں سے جاری کشیدگی کا خاتمہ ہوجائے گا مگر ان کیمروں کی فوٹیج کی ملکیت اور کچھ مقامات کی فلم بنانے پر تنازعات ابھی تک باقی ہیں جن کی وجہ سے اس منصوبے کی تکمیل نہیں ہو رہی ہے۔

مسجد اقصیٰ میں حالیہ مہینوں کے دوران 'اسٹیٹس کو' پر بہت تنازعہ ہوا ہے۔ مسجد کے ایک کے مطابق غیر مسلم مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوسکتے ہیں مگر وہ مذہبی رسومات ادا نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ قانون 1187ء میں مسلمان فاتح صلاح الدین ایوبی نے صلیبی فوج کو شکست دینے کے بعد رائج کیا تھا۔

بیت المقدس کے امور کے ماہر اور دو ریاستی حل کے وکیل ڈینئیل سیڈمان کا کہنا ہے کہ "اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی چال کارگر نہیں ہوگی۔ کوئی میکینزم چاہے وہ کوئی عمل ہو، ایک کیمرہ یا تکنیک کچھ بھی فریقین کے درمیان بچ نہیں سکتا ہے۔"

اس تنازعے کے نتیجے میں بیت المقدس میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے اور کشیدگی کے خاتمے میں مزید دیر مہنگی پڑے گی۔ یہودیوں کی مذہبی تعطیلات کے دوران کشیدگی آسمان تک پہنچ جاتی ہے اور اگلی یہودی تعطیل صرف دو ماہ کی دوری پر ہے۔

مسجد اقصیٰ کے کمپائونڈ کے منتظم ملک اردن کا کہنا ہے کہ "کیمرہ پراجیکٹ آگے بڑھ رہا ہے مگر یہ ابھی تکنیکی تیاری کے مرحلے میں ہے۔

مسلمانوں مقدس مقام میں تشدد کا آخری دور پچھلے سال ماہ ستمبر میں چلا تھا جس کے دوران فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ تمام مقبوضہ علاقے تک پھیل گیا۔

فوٹیج کی ملکیت ایک اور اہم مسئلے کے طور پر ابھر کر آیا ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق اردن اور فلسطینی اسرائیل کو اس فوٹیج میں کسی بھی قسم کی ترمیم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اردن کے شاہ عبداللہ کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات میں بھی وڈیو سرویلنس کے معاملے پر بات کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں