افغانستان: بامیان میں ایرانی ساخت کی بارودی سرنگوں کا انکشاف
افغانستان میں حکام نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ انہیں طالبان کے ہتھیاروں کے ایک گودام سے ایرانی ساخت کی بارودی سرنگیں ملی ہیں۔ یہ بارودی سرنگیں ملک کے وسط میں بامیان کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کے چھاپے کے دوران برآمد ہوئیں۔
برطانوی ریڈیو کے مطابق بامیان کے گورنر محمد طاہر ظہیر نے بتایا کہ " اگرچہ ان باردوں سرنگوں پر سے کارخانے اور ملک کا نام مٹا دیا گیا ہے، تاہم عسکری اور سیکورٹی ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ یہ ایرانی ساخت کی ہیں"۔
دوسری جانب بامیان کے گورنر کے ترجمان عبدالرحمن احمدی نے بتایا کہ ملنے والی بارودی سرنگوں کی تعداد 32 ہے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ سرنگیں کب اور کس طرح ملک میں لائی گئیں۔
احمدی کے مطابق یہ سرنگیں اور اس کے علاوہ بڑی تعداد اور مقدار میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بامیان کے شمال مغربی علاقے "درہ شکاری" سے ملے ہیں۔
یاد رہے کہ افغانستان میں امریکی اور بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے اکتوبر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران مالی اور عسکری طور پر طالبان تحریک کو سپورٹ کررہا ہے۔
امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جنرل" نے گزشتہ جون میں انکشاف کیا تھا کہ ایران طالبان تحریک کی مالی اور فوجی مدد کررہا ہے اور تحریک کے جنگجوؤں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کررہا ہے۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق افغان اور مغربی ذمہ داران نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ "ایران نے خاموشی کے ساتھ طالبان کو امداد اور اسلحہ فراہم کیا جو افغانستان میں سیکورٹی کی نازک صورت حال کے لیے ایک نیا خطرہ ہے"۔
تاریخی لحاظ سے ایران اور طالبان کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں... اور 1998 میں قریب تھا کہ تہران حکومت طالبان کے خلاف طبل جنگ بجا دیتی جب مزار شریف میں ایران کے قونصل خانے میں اس کے 10 سفارت کاروں کو یرغمال بنانے کے بعد ہلاک کردیا گیا تھا۔
2001 میں طالبان حکومت کے سقوط کے سلسلے میں ایران نے بین الاقوامی اتحاد کا ساتھ دیا تھا۔ تاہم بعد میں اس نے اپنی سرحد پر امریکی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے طالبان کی سپورٹ شروع کردی۔ اکتوبر 2014 میں امریکی وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے 2007 سے طالبان کو اسلحہ پیش کیا۔
پاسداران انقلاب کے نزدیک سمجھی جانے والی ویب سائٹ "تسنيم" کی جانب سے یہ بات بتائی جاچکی ہے کہ 18 مئی 2015 کو طیب آغا کی سربراہی میں افغان تحریک طالبان کے سیاسی بیورو کے ایک وفد نے تہران کا دورہ کیا تھا۔
یہ تیسرا موقع تھا جب طابان تحریک کے کسی سرکاری وفد نے ایران کا دورہ کیا۔ ایران اور طالبان کے درمیان الائنس اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب تہران حکومت نے طالبان کے وفد کو اسلام کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت اور سینئر ایرانی ذمہ داران سے ملاقات کی سرکاری طور پر دعوت دی۔