.

شامی سیز فائر کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کے مبصر گروپ کا کہنا ہے کہ شام کے مختلف علاقوں میں تاریخی جنگ بندی کے پہلے پانچ دنوں کے دوران 24 شہری ہلاک ہوئے جو کہ ماضی میں اتنی ہی مدت کے دوران مارے جانے والے افراد کی تعداد کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق جنگ بندی والے علاقوں سے جمع کئے جانے والے اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ پانچ خواتین اور چھ بچوں سمیت 24 افراد ہلاک اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ اگر ہم جنگ بندی سے صرف ایک روز قبل یعنی جمعہ کے دن ہی کو دیکھ لیں تو اس دن 11 بچوں سمیت 63 شہری بمباری اور لڑائی کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی اموات میں کمی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے اور ماہ فروری کے دوران شہریوں کے روزانہ اموات کی اوسط 38 تھی۔

مارچ 2011ء سے شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں دو لاکھ 70 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 79 ہزار سے زائد شہری ہیں۔

ہفتے کے روز امریکا اور روس کی جانب سے شام کے ان علاقوں میں جہاں داعش یا القاعدہ کی وفادار النصرہ محاذ موجود نہیں ہیں، جنگ بندی کروا دی گئی تھی۔

آبزرویٹری کے مطابق جنگ بندی کے علاقوں میں لڑائی اور جھڑپوں کے واقعات میں کمی آئی ہے اور شیلنگ، راکٹ حملوں اور بمباری کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

عبدالرحمان رامی کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 42 باغی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے اکثر کی موت ساحلی صوبے اللاذقیہ، وسطی شام کے صوبے حماہ اور دمشق کے قریب موجود باغیوں کے گڑھ مشرقی غوطہ کے علاقوں میں ہوئی ہے۔

اسی عرصے کے دوران بشار الاسد کی فوج کے 25 اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے جو کہ دمشق، اللاذقیہ اور حلب میں لڑائی میں مصروف تھے۔

اس کے علاوہ حلب شہر میں النصرہ اور اس کے اتحادی جنگجوئوں کے ساتھ لڑائی کے دوران کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے پانچ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

النصرہ محاذ اور دیگر چھوٹے گروپوں کے 22 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں جو کہ الاذقیہ اور حلب میں جھڑپوں میں مصروف تھے۔