.

استنبول : اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ترکی کے شہر #استنبول میں #اسلامی_تعاون_تنظیم کا 13واں سربراہ اجلاس شروع ہوگیا۔ اجلاس کے آغاز پر 12 ویں اجلاس کے میزبان ملک #مصر نے حالیہ اجلاس کی صدارت ترکی کے حوالے کی۔

دو روز جاری رہنے والے اجلاس میں نمایاں ترین شخصیت خادم حرمین شریفین #شاہ_سلمان بن عبدالعزیز کی ہے جو بدھ کے روز #انقرہ سے استنبول پہنچے تھے تاکہ سربراہ اجلاس میں سعودی وفد کی صدارت کرسکیں۔ ذرائع کے مطابق اعلی ترین سطح پر نمائندگی کے لحاظ سے یہ اجلاس تاریخی اہمیت کا حامل ہے جس میں 30 ممالک کے سربراہان ریاست اور حکومت شرکت کررہے ہیں۔

مصر کا خطاب

سربراہ اجلاس کے افتتاح پر مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف سے خطاب کیا۔ شکری کا کہنا تھا کہ شام، یمن اور لیبیا میں شورشیں درحقیقت داخلی اور خارجی سطح پر مسائل کی پیداوار ہیں۔

انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے کردار کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین ابھی تک حل نہیں ہوسکا، ہم امید کرتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عالمی برادری اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

شکری نے لیبیا میں بحران کے حل کے لیے مصر کی شدید خواہش کو باور کراتے ہوئے طرابلس میں صدارتی کونسل کے استحکام کا خیرمقدم کیا۔

شام کے بحران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مصر ایسے حل پر زور دیتا ہے جس کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکے اور شامی سرزمین کی یکجہتی کو برقرار رکھا جاسکے۔

تنظیم کے سکریٹری جنرل کا خطاب

سربراہ اجلاس کے افتتاحی خطاب میں اسلامتی تعاون تنظیم کے سکریٹری جنرل ایاد مدنی کا کہنا تھا کہ "مسئلہ فلسطین ابھی تک تنظیم کے لیے اولین ترجیح ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جکارتہ کے سربراہ اجلاس میں سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ کرنے پر زور دیا گیا تھا کہ وہ (اسرائیلی) قبضہ ختم کرانے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قرار داد جاری کرے"۔

مدنی کے مطابق تنظیم نے انسداد دہشت گردی کو سب سے زیادہ توجہ طلب امر کے طور پر رکھا ہے تاہم دہشت گردی کے خلاف برسرجنگ ہونے کے معاہدے کی رکن ممالک میں سے صرف 20 ملکوں نے توثیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم عراق کے ساتھ مکہ کانفرنس 2 کے انعقاد کے لیے کام کررہی ہے تاکہ لڑائی اور تنازعوں میں گھرے ملک میں مصالحت کو یقینی بنایا جاسکے۔ مدنی نے ایک بار پھر تنظیم کی نیابت کرتے ہوئے سوڈان پر عائد "ظالمانہ امریکی پابندیاں" اٹھانے کا مطالبہ دہرایا۔

ترکی کا خطاب

ترکی کے صدر رجب طیب #ایردوآن کا کہنا ہے کہ سربراہ اجلاس کا عام موضوع انصاف اور امن ہے، ہم پر لازم ہے کہ ان اصطلاحات کی حقیقت کے ادراک میں جلدی کریں کیوں کہ جانوں سے ہاتھ دھونے والوں کی تعداد بدستور بڑھتی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "شکار ہونے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ یقینا عالم اسلام نے استنبول میں اس سربراہ اجلاس سے دلی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم انہیں پورا کرسکتے ہیں"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے جن میں مسلک کا فتنہ اور نسلی امتیاز سرفہرست ہیں"۔

ایردوآن کے خیال میں جو دہشت گرد لوگوں کو قتل کررہے ہیں وہ اسلام کی نمائندگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے کہ ہمارا دین امن و سلامتی اور مصالحت کا دین ہے۔ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدائی انصاف پھیلانے کے لیے آئے اور ہمیں تعاون کا حکم دیا اور ظلم و زیادتی سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دمیان جو بھی مسائل ہوں تاہم اسلامی ممالک ہونے کے طور پر ہم ان لوگوں کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے جو قتل و غارت گری کررہے ہیں۔ اسی لیے ہم پر لازم ہے کہ بھائی چارگی، محبت اور سلامتی کے پابند رہیں اور جارحیت سے دور رہیں۔

ترکی کے صدر نے زور دیا کہ "کانفرنس کو اخوت کے یقینی بنانے کا ذریعہ بنایا جائے"۔

انہوں نے دہشت گردی اور تشدد کو عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ گردانتے ہوئے کہا کہ پہلے القاعدہ تنظیم کی وجہ سے افغانستان تباہ ہوا اور اب داعش تنظیم، حرکت الشباب اور بوکوحرام کی کے سبب یہ امر پھر سے دہرایا جارہا ہے۔

ترکی کے صدر نے مغربی ممالک کے دہرے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "ان ممالک نے انقرہ، استنبول اور لاہور حملوں سے تو چشم پوشی کرلی اور تمام توجہ برسلز پر مرکوز کردی"۔

انہوں نے کہا کہ " میں دنیا کے ممالک کو پکار کر کہتا ہوں کہ سیکورٹی اور مالی سطح پر انسداد دہشت گردی کے لیے ایک سنجیدہ آپریشن کا آغاز کیا جائے۔ میں اسلامی تعاون تنظیم کے ممالک سے کہتا ہوں کہ ہم پر لازم ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لیے ایک ایسوسی ایشن یا باڈی قائم کریں اور اس سلسلے میں تنظیم کے زیرانتظام پولیس اور انٹیلجنس کا ایک ادارہ ہوسکتا ہے"۔

ایردوآن کے مطابق "دہرے معیار ایک ایسا امر ہے جس پر آنکھیں نہیں موندی جاسکتیں۔ بہت سے مسلمان اپنے ملکوں میں قتل و غارت گری، ظلم اور زیادتی کا شکار ہیں۔ اسلام دشمنی کا مظہر پروان چڑھ رہا ہے اور مغربی دنیا مسلمانوں کے لیے ایک خطرناک عالم میں تبدیل ہورہی ہے"۔

ایردوآن نے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نسلی اور مذہبی نقشے کی روشنی میں سلامتی کونسل کے ڈھانچے کی از سر نو تشکیل کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے ملک اور مستقبل کو آنے والی نسلوں کے لیے تیار کریں۔ خواتین جو ہمارے معاشروں کا نصف حصہ ہیں، ان کا حق ہے کہ انہیں سپورٹ کیا جائے"۔

انہوں نے تنظیم کو تجویز پیش کی کہ "اسلامی تعاون کے سلسلے میں خواتین کی ایک کانفرنس منعقد کی جائے۔ اس لیے کہ مسلمان عورت کا حق ہے کہ اس کی نمائندگی کرنے والا کوئی ادارہ ہو۔ خواتین کو اپنے مسائل پر خود بات چیت کرنے دیا جائے"۔

ایردوآن نے اسلامی ممالک کے اقتصادی مسائل کے حل کے لیے ایک میکانزم بنانے کا مطالبہ کیا۔

ترکی کے صدر نے کہا کہ "ہمیں چاہیے کہ (اسرائیلی) قبضے کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کریں، ایسی ریاست جا کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ تنظیم پر لازم ہے کہ وہ ان تمام مسلم عوام اور اقوام کو سپورٹ کرے جو دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے حقوق کے لیے مزاحمت کررہے ہیں"۔