ایران کا سعودی حج پروٹوکول پر دستخط سے انکار
تہران کے فیصلے کے باعث ایرانی شہری امسال حج نہیں کر سکیں گے
بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امسال ایران اپنے شہریوں کو فریضہ حج ادائیگی کے لئے سعودی عرب جانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ایرانی وزیر ثقافت اور ارشاد اسلامی علی جنتی نے الزام لگایا ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب کے ساتھ کئی مہینوں سے جاری 'حل طلب سیکیورٹی امور' کو منطقی انجام تک نہ پہنچانے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔
اے پی کی جانب علی جنتی کے نقل کردہ بیان کے مطابق "انہوں [سعودی عرب] نے ایرانی عازمین حجاج کو ویزوں کے اجراء، سیکیورٹی اور ان کی نقل و حمل سے متعلق ہماری تجاویز نہیں مانیں۔" امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی سرکاری خبر رساں ادارے نے کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا، تاہم خبر میں اس امر کی وضاحت نہیں ملتی کہ آیا تہران نے خود سعودی جواب جاننے کی کوشش کی؟
یاد رہے کہ دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان گزشتہ برس کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا تھا جب حج کے موسم میں بھگڈر کا ایک واقعہ ہوا جس میں ایران کے متعدد حاجی بھی جاں بحق ہونے والے سیکڑوں حجاج میں شامل تھے۔
سعودی حکام نے اپنے تیئں ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس حادثے کو سیاسی رنگ دینے سے باز رہیں، تاہم تہران کے مسلسل اصرار کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات ختم ہو گئے کیونکہ ایران سعودی شہری کو دی جانے والی سزائے موت پر ہونے والے احتجاج میں ریاض کے سفارتخانے کو بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
ایرانی فیصلے نے متعدد سوالات جنم دیئے ہیں کیونکہ حج دین اسلام کے پانچ ارکان میں شامل اہم رکن اور مذہبی فریضہ ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے۔
سعودی عرب نے اس صورتحال میں کسی بھی مرحلے پر یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ اس سال ایرانی حاجیوں کو خوش آمدید نہیں کہے گا۔
-
"بشار و ايران" اور"دہشت گردی" ایک سکے کے دو رُخ : سعودی عرب
سعودی عرب نے شامی حکومت اور ایران کو خطے میں شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تنازعات ...
مشرق وسطی -
حلب میں اپنے مقتولین کا انتقام لیں گے : ایران
ایرانی عسکری اداروں کی دو بڑی شخصیات محسن رضائی اور علی شمخانی نے پیر کے روز دھمکی ...
مشرق وسطی -
امریکی قرارداد میں "خلیج عربی" کے الفاظ پر ایران کا احتجاج
ایران نے امریکی کانگریس میں پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے میں "خلیج ...
بين الاقوامى