.

حج کو سیاسی رنگ دینے کی ایرانی سازشیں قابل مذمت: جی سی سی

پاکستانی عالم دین کی جانب سے بھی ایرانی مطالبات مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل [جی سی سی] نے فریضہ حج کو سیاسی رنگ دینے کی ایرانی سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تہران کی پالیسی کو سعودی عرب کی توہین کے مترادف قراردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالطیف الزیانی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا فریضہ حج کو سیاسی رنگ دینے کے منفی طرز عمل سے تہران کی بدینتی ظاہرہوتی ہے۔ ایران حج کو سیاسی رنگ دے کر ایران کے حجاج کرام کے مسائل کے حل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی راہ میں خود ہی مشکلات کھڑی کررہا ہے۔

انہوں نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور فریضہ حج جیسے مقدس عبادت کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے اس کی مذہبی روح کو برقرار رکھنے میں معاونت کرے۔ ڈاکٹر الزیانی کاکہنا تھا کہ فریضہ حج تمام مسلمانوں اور مسلمانوں ملکوں کے لیے یکساں ہے۔ فریضہ حج کو دو طرفہ اختلافات کی بھینٹ چڑھانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ بات قطعا نا مناسب ہے کہ کوئی ملک سیاسی اختلافات کی بنیاد پر فریضہ حج کی ادائی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرے۔ ایرانی حکومت کے سینیر عہدیداروں کے سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیز بیانات غیرذمہ دارانہ ہی نہیں بلکہ فریضہ حج کی مذہبی حیثیت کو متنازع بنانے کی مذموم کوشش ہیں۔ اس طرح کے بیانات سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات مزید متاثرہوں گے اور فریضہ حج کی ادائی کی راہ میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگی۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے سعودی حکومت بالخصوص خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے حجاج ومعتمرین کرام کے لیے ہمہ نو سہولیات فراہم کرنے پرانہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سعودی حکومت فریضہ حج اور عمرہ کی اپنی ذمہ داریوں سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہو رہی ہے۔

پاکستان اسکالرز کونسل کے چئیرمین ڈاکٹر طاہر محمود اشرفی نے سعودی حکومت کی جانب سے حج اور عمرہ زائرین کو بہترین سہولیات اور خدمات فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہا ہے۔

لاہور سے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے ایرانی حج وفد کی جانب سے اس سال حج کے لئے دوطرفہ معاہدے پر دستخط سے پہلے عاید شرائط کو مسترد کردیا۔

طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ "حج کی ادائیگی تمام مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے اور اس کے تمام انتظامات مکمل کرنا سعودی کے ذمے ہے۔ اسی لئے مسلم امہ اس معاملے میں کسی کی بھی مداخلت کو مسترد کرتی ہے۔"