.

اقوام متحدہ کی یمن بارے رپورٹ غیرمتوازن ہے: عسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم عرب اتحاد کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ مسترد کردی ہے۔ اس رپورٹ میں سعودی عرب کو ان بلیک لسٹ گروپوں، مسلح جتھوں اور ممالک میں شامل کیا گیا ہے جو یمن میں بچوں کے حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عرب اتحاد کے ترجمان جنرل عسیری نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو ’تضادات سے بھرپور‘ قرار دے کر اسے غیرمتوازن قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن میں جنگ کا اہم ترین مقصد یمنی بچوں کو حوثی ملیشیا کی غیرآئینی حکومت کے مظالم سے نجات دلانا اور اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔ سعودی عرب پر یمن میں بچوں کے حقوق کی پامالیوں کا الزام مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ پر اس لیے بھی افسوس ہے کہ اس رپورٹ میں سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کو ایک ہی پلڑے میں ڈالا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں رپورٹ میں آئینی حکومت اور اس کے حامیوں کو باغیوں کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ آئینی حکومت یمن میں باغیوں کی پھیلائی افراتفری کو ختم کرنے، آئین اور قانون کی عمل داری کو یقینی بناتے ہوئے شہریوں کی جان ومال کوتحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس رپورٹ میں سعودی عرب کو انسانی حقوق کی پامالیوں کا مرتکب قرار دے کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یمن میں منتخب آئینی حکومت کی بحالی کے لیے جب سے ریاض کی قیادت میں آپریشن شروع ہوا ہے، سعودی حکومت اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ہمارا مقصد یمنی شہریوں بالخصوص بچوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے ذریعے یمنی بچوں کی بہبود کےلیے 30 ملین ڈالرکے فنڈز جاری کیے ہیں۔

گمراہ کن رپورٹ

سعودی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ یمن سے متعلق اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں غلط اعدادو شمار جاری کیے گئے ہیں اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی ہے۔

جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یمن میں بچوں کے قتل سے متعلق جو معلومات آئینی حکومت کی طرف سے دی گئی ہیں انہیں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یمن میں حوثی باغیوں کی جنگی کارروائیوں، بارودی سرنگوں کے پھٹنے اور بارود کے ڈھیروں میں ہونے والے دھماکوں سے کتنے معصوم بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس لیے یہ رپورٹ غیرمتوازن ہونے کے ساتھ ساتھ گمراہ کن بھی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی رپورٹس یمنی قوم کی خدمت نہیں بلکہ حقائق کے بھی خلاف ہیں۔ یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ خود عالمی ادارے کی سابقہ قراردادوں کے خلاف ہے۔ ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے حامی اقوام متحدہ کی جانب سے گمراہ کن اور غیرمتوازن رپورٹس کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں سعودی عرب اور یمن کی آئینی حکومت کی نمائندہ فورسز کو بھی بچوں کے قتل اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی متنازع رپورٹس پر سعودی عرب اور یمن دونوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔