ترکی کی یورپی یونین سے بغیر ویزا سفر کی ڈیل تعطل کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ویزا فری سفر کے لیے معاہدہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے اور ترکی کے یورپی امور کے وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے شہریوں کے یورپ کے ویزا فری فری سفر سے متعلق ڈیل یکم جولائی کی مقررہ ڈیڈ لائن تک پایہ تکمیل کو پہنچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ترکی کے یورپی امور کے وزیر عمر چیلک نے نیدرلیڈز کے دورے کے موقع پر ڈچ نشریاتی ادارے این او ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ '' اگر ہم حقیقت پسند ہیں تو ہم اس تاریخ تک مقاصد حاصل نہیں کرسکیں گے''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا جلد سے جلد ہونا چاہیے۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان شامی مہاجرین کی آبادکاری اور غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی سے متعلق 18 مارچ کو ایک معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت ترکی کی علاقائی حدود سے تنظیم کے رکن ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے شامیوں اور دوسرے افراد کو ترکی میں واپس بھیجا جائے گا۔اس کے بدلے میں ترک شہریوں کو اکتوبر 2016ء سے یورپی ممالک میں بغیر ویزا سفر کی اجازت ہوگی۔

وزیر چیلک کا کہنا ہے کہ ترکی تمام معیار پر پورا اترتا ہے اور اب ایسی کسی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ جس سے ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صلاحیت متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔واضح رہے کہ ترکی کی جانب سے تمام شرائط پوری ہونے کے بعد یورپی پارلیمان معاہدے کی منظوری دے گی اور پھر اس پر عمل درآمد کی نوبت آئے گی۔

اس معاہدے کے تحت یورپی یونین کی جانب سے ترکی کو 2018ء کے اختتام تک ستائیس لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کے لیے چھے ارب ڈالرز یورو کی قسط وار امداد بھی دی جائے گی۔ترکی ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔اس کے علاقے سے ہر سال ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن سرحد عبور کرکے یونان میں داخل ہوتے ہیں۔یورپی یونین یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ترکی ان ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑے جانے کی صورت میں واپس لے۔

لیکن ترکی نے ابھی تک یورپی کمیشن کے بغیر ویزا سفر سے متعلق سمجھوتے کے لیے وضع کردہ شرائط کو پورا نہیں کیا ہے۔یورپی کمیشن نے اس مقصد کے لیے ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے انسداد دہشت گردی کے قوانین کو تبدیل کرے تاکہ یورپی یونین کی انسانی حقوق سے متعلق تشویش کو دور کیا جاسکے۔

آسٹریا کے وزیر داخلہ وولفگینگ سبوتکا نے بھی جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یکم جولائی کی ڈیڈلائن قابل عمل نہیں ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ویزا سے استثنیٰ پر زیادہ سے زیادہ اکتوبر تک عمل درآمد کا آغاز ہوجانا چاہیے۔واضح رہے کہ ترکی یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر ویزا فری سفر پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ یورپی یونین کے ساتھ طے پائے تمام معاہدے ہی کو ختم کردے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں