شام کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں : وہائٹ ہاؤس
وہائٹ ہاؤس نے وزارت خارجہ کے سفارت کاروں کی جانب سے پیش کی جانے والی اُس یادداشت کا خیرمقدم کیا ہے جس میں شامی حکومت کے خلاف عسکری ضرب پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم وہائٹ ہاؤس نے ایک مرتبہ پھر یہ باور کرایا ہے کہ "شامی بحران کا کوئی عسکری حل موجود نہیں"۔
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان جنیفر فریڈمین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی انتظامیہ شام کے مسئلے کے حلوں سے متعلق تمام آئیڈیاز پر غور و فکر کے لیے کشادہ رجحان رکھتی ہے۔
فریڈمین کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما پیش کی جانے والی یادداشت پر غور کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ "شام کے حوالے سے اوباما کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں۔ صدر بار ہا صاف طور پر یہ بیان کر چکے ہیں کہ شام کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ یہ ویژن ابھی تک قائم ہے"۔
اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ میں شام کے معاملے کے لیے بطور مشیر کام کرنے والے 51 سفارت کاروں نے جمعہ کے روز ایک مشترکہ یادداشت پر دستخط کیے جس میں شام کے حوالے سے اپنے ملک کی پالیسی تبدیل کرنے اور شامی حکومت کے خلاف عسکری آپریشن کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
-
یو اے ای عرب اتحاد کا حصہ رہے گا: عادل الجبیر
شام کے بحران پر واشنگٹن اور ریاض میں کوئی اختلاف نہیں
بين الاقوامى -
شام پر ہمارا ضبط وتحمل محدود ہے: امریکا کا روس کو انتباہ
امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے روس کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کا شامی تنازعے اور ...
مشرق وسطی -
اعلیٰ ایرانی عہدیدار شام اور روس کے لیے رابطہ کار مقرر
علی شمخانی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ ہیں
بين الاقوامى