تُرکی میں بغاوت پر جشن، اسدی گماشتوں نے بچے کی جان لے لی

نوسالہ ابراہیم راعی کو گھر کی چھت پر گولیاں مار کر شہید کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رواں ہفتے کے آغاز میں ترکی میں فوج کے ایک گروپ کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش پر شام میں صدر بشار الاسد کے حامیوں نے جشن منایا مگر انہیں اس وقت سبکی اور صدمے کا سامنا کرنا پڑا جب ترک عوام نے فوجی بغاوت کی سازش ناکام بناتے ہوئے باغیوں کی خوب درگت بنا ڈالی۔ اطلاعات کے مطابق شام میں منائے جانے والے جشن کے دوران بشارالاسد کے حامی عناصر نے اندھا دھند گولیاں چلاتے ہوئے ایک کم عمر بچے کو قتل کر ڈالا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش پر خوشی سے پاگل اسدی گماشتوں نے اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک اندھی گولی نے صدر اسد کے آبائی شہر اللاذقیہ میں اپنے گھر کی چھت پر سویا ہوا نو سالہ جعفر ابراہیم عصام راعی جاں بحق ہوگیا۔

اسدی گماشتوں کی اندھا دھند فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے بچے کو ہفتے کے روز سپرد خاک کیاگیا ہے۔ اگرچہ بچے کے والدین نے صرف اتنا بتایا ہے کہ ان کا لخت جگر نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی ہے۔

مقتول بچے کے حوالے سے سوشل میڈیا اور ’الدعتور نیوز نیٹ ورک‘ کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ابراہیم راعی ان عناصر کی گولیوں کا نشانہ بنا جنہوں نے ترکی میں حکومت کے خلاف فوجی بغاوت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیوانہ وار ہوائی فائرنگ شروع کردی تھی۔

نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کےمطابق ابراہیم راعی اپنے گھر کی چھت پر دیگر اہل خانہ کے ساتھ سویا ہوا تھا کہ اچانک ایک اندھی گولی اس کےسرمیں آلگی جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ جعفر ابراہیم راعی کی اسدی گماشتوں کے ہاتھوں قتل پر سوشل میڈیا پر سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کے خلاف سخت کارروائی اور انہیں کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں