ایران کا اپنی بحری حدود میں آنے والے غیرملکی جہازوں کو انتباہ
ایران کی بحری افواج نے غیر ملکی جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان کے ملک کے پانیوں میں داخل ہونے سے گریز کریں اور اگر کوئی غیرملکی جہاز ایرانی بحری حدود میں داخل ہوا تو اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔
ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے جمعرات کو وزیردفاع جنرل حسین دہقان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''اگر کوئی بھی غیرملکی جہاز ہمارے پانیوں میں داخل ہوگا ،ہم اس کو خبردار کریں گے،اگر یہ دراندازی ہوگی تو ہم اس کے خلاف محاذ آراء ہوں گے''۔ انھوں نے کہا کہ ''ایرانی کشتیاں اپنے علاقائی پانیوں میں بحری ٹریفک اور غیرملکی جہازوں کی نقل وحرکت کی نگرانی کریں گی''۔
جنرل حسین دہقان نے یہ بیان خلیج فارس میں چار ایرانی کشتیوں کے امریکا کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائیر نٹز کے نزدیک آنے کے ایک روز بعد جاری کیا ہے۔امریکی بحریہ نے اس واقعے کو غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ بدھ کو یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کو امریکی بحریہ کی ملنے والی ایک ویڈیو میں نٹز پر سوار امریکی سیلرز ایرانی کشتیوں کے نزدیک آنے کے بعد آتشیں گولے پھینکتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں اور وہ جنگی جہاز کے ہارن کو بھی بجا رہے ہیں۔
قبل ازیں امریکی ایڈمرل جان رچرڈسن نے کہا تھا کہ نٹز کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے سے سمندر میں امریکی بحریہ کو درپیش سخت مقابلے اور ایران کے ساتھ بحری کشیدگی کی عکاسی ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے جنوری میں غلطی سے اپنے پانیوں میں آنے والے امریکی بحریہ کے دس سیلروں کو گرفتار کر لیا تھا۔گذشتہ سال دسمبر میں ایرانی جہازوں نے آبنائے ہرمز کے نزدیک امریکا کے ایک جنگی بحری جہاز اور دوسرے جہازوں کی جانب راکٹ بھی فائر کیے تھے جو ان کے نزدیک گرے تھے۔اس واقعے کے ایک ماہ بعد ایران کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے خلیج فارس میں امریکا کے طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین کے نزدیک پرواز کی تھی۔