یمنی فوج کی غلط اطلاع صنعا میں جنازے پر فضائی حملے کی موجب
یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف برسرجنگ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے کہا ہے کہ اس کے لڑاکا طیارے نے صنعا میں ایک جنازے کو غلطی سے حملے میں نشانہ بنایا تھا اور ایسا یمنی فوج کی ایک پارٹی کی جانب سے غلط اطلاع ملنے پر ہوا تھا۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ یمنی فوج کے آپریشنز سنٹر نے اس حملے کی منظوری دی تھی اور اس نے کسی اجازت کے بغیر ایسا کیا تھا۔ اتحاد نے اس حملے پر ضابطے کی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
عرب اتحاد کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ ''اتحاد کے فوجی کارروائیوں کے لیے ضابطہ کار کی پاسداری نہ کرنے اور غلط معلومات کی بنیاد پر اتحاد کے ایک طیارے نے غلطی سے صنعا کی اس جگہ ( ہال) کو نشانہ بنایا تھا اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں''۔
''اس واقعے کے ذمے داروں کے خلاف مناسب اقدام ہونا چاہیے اور مقتولین اور مجروحین کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جانا چاہیے''۔ بیان میں کہا گیا ہے۔
صنعا میں واقع ہال پر فضائی حملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے بیان میں مزید کہا ہے کہ''اس نے تمام متعلقہ دستاویزات ،شواہد ،حملوں کے ضابطہ کار اور متعلقہ اہلکاروں اور اس واقعے میں ملوّث اہلکاروں کے بیانات کا جائزہ لیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یمنی پریزیڈینسی برائے جنرل چیف آف اسٹاف نے غلط طور پر یہ اطلاع دی تھی کہ صنعا میں ایک معروف جگہ پر مسلح حوثی لیڈروں کا اجتماع منعقد ہورہا ہے اور اس نے یہ بالاصرار کہا تھا کہ اس جگہ کو فوری طور پر حملے کا ہدف بنا دیا جائے کیونکہ یہ ایک بالکل درست فوجی ہدف ہے''۔
یہ ٹیم ابھی تک واقعے سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہے اور بعض فریقوں کی جانب سے ان رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے جو غلطی سے کی جانے والی اس بمباری میں مقتولین اور مجروحین کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔ٹیم یمن کی قانونی حکومت کی متعلقہ ایجنسیوں اور متعلقہ حکومتوں کے ساتھ مل کر مزید واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اور جونہی یہ تحقیقات مکمل ہوتی ہیں تو ان کے نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔