امریکی ایوان نمائندگان میں ایران پر پابندیوں کی تجدید کا بل منظور

شامی صدر بشارالاسد کے پشتی بان ممالک پر مالی قدغنیں لگانے کی بھی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی ایوان نمائندگان نے کثرت رائے سے دو بلوں کی منظوری دے دی ہے۔ان میں ایک بل کے تحت ایران پر عشروں سے عاید پابندیوں سے متعلق ایک قانون کی تجدید کی گئی ہے اور دوسرے بل کے تحت شامی صدر بشارا لاسد کے پشتی بانوں اور حامیوں کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کی جائیں گے۔

اب سینیٹ اگر ان دونوں بلوں کی منظوری دے دیتی ہے اور صدر ان پر دستخط کردیتے ہیں تو یہ قانون بن جائیں گے۔امریکی کانگریس کے ارکان نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت پر جنگی جرائم کی مرتکب ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔شام سے متعلق بل میں بشارالاسد کے دو اتحادی ممالک روس اور ایران کو ہدف بنایا گیا ہے۔اس کے تحت امریکی صدر شامی حکومت یا شام کے مرکزی بنک کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک یا کمپنیوں پر مالی پابندیاں عاید کرسکیں گے۔

مجوزہ قانون کے تحت جو کوئی بھی شام کی تجارتی فضائی کمپنیوں کے لیے طیارے مہیا کرے گا،شامی حکومت کے زیر انتظام ٹرانسپورٹ اور ٹیلی کام کے شعبوں میں کاروبار کرے گا یا اس جنگ زدہ ملک کی توانائی کی صنعت کی مدد کرے گا،تو اس کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

اگر شام میں جنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے اور شہریوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہوتا ہے تو پھر یہ پابندیاں معطل بھی کی جاسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ نے کانگریس کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ شام اور اس کے اتحادی ممالک پر نئی پابندیاں عاید کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ایسی قانون سازی سے امریکا کی روس کے ساتھ شامی باغیوں اور اسد حکومت کے درمیان جنگ بندی کے لیے امن کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں جبکہ شامی تنازعے پر امریکا کی روس کے ساتھ بات چیت پہلے ہی منقطع ہوچکی ہے۔ان دونوں کا یہ بھی مؤقف رہا ہے کہ ایران پر پابندیوں کی تجدید سے اس کو امریکا اور دوسرے ممالک کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے سے منحرف ہونے کا جواز فراہم ہوسکتا ہے۔

ایوان نمائندگان میں منظور کردہ بل سے محکمہ خارجہ کو شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات اور ان میں ملوّث افراد کے خلاف عالمی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے لیے اقدامات کی اجازت حاصل ہوجائے گی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گذشتہ ماہ روس اور شام کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

درایں اثناء ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکا میں حالیہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے باوجود ان کا ملک تاریخی جوہری معاہدے کی پاسداری جاری رکھے گا۔انھوں نے بدھ کو ایک نشری تقریر میں کہا کہ ''اگر یہاں یا وہاں کوئی صدر تبدیل ہوتا ہے تو اس سے ایران کے عزم پر کچھ فرق نہیں پڑے گا''۔

انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ''دنیا کسی ایک شخص یا جماعت کے تابع نہیں ہے۔ دنیا کی حقیقت انتہا پسندوں پر بہت سی چیزیں مسلط کرے گی''۔ ان کا کہنا تھا کہ ''کسی کو یہ تصور نہیں کر لینا چاہیے کہ ایران کے ساتھ کھیلنا ممکن ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں