خلیج تعاون کونسل نے حوثیوں کی نئی کابینہ مسترد کردی
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کی جانب سے نئی حکومت کی تشکیل مسترد کردی ہے اور اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
جی سی سی کے سکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ''خلیجی ریاستیں اس اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثی بحران کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں اور وہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کی نئی مصالحانہ کوششوں کو پیچیدہ بنا رہے ہیں''۔
حوثیوں نے عبد العزيز بن حبتور کی قیادت میں سوموار کو نئی کابینہ تشکیل دی ہے۔ یہ بیالیس وزراء پر مشتمل ہے اور اس میں حوثیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں میں وزارتیں برابر برابر تقسیم کی گئی ہیں۔
دفاع، داخلہ اور خارجہ امور کی وزارتیں علی عبداللہ صالح کے حامیوں کو سونپی گئی ہیں جبکہ خزانہ ،سول سروس ،منصوبہ بندی ،بین الاقوامی تعاون ،تعلیم ،اطلاعات ،انصاف اور قانون کی وزارتیں حوثی ملیشیا کے حصے میں آئی ہیں۔
حوثیوں نے صنعا میں اپنی نئی حکومت قائم کرنے کا اقدام اقوام متحدہ خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کی جانب سے بحران کے حل کے لیے از سر نو کوششوں کی بحالی کے بعد کیا ہے جبکہ کویت نے یمن کی قانونی حکومت اور باغیوں کے وفود کا نئے مذاکرات اور امن معاہدے پر دستخطوں کے لیے خیرمقدم کرنے کا اعلان کیا تھا۔