.

ایرانی طلباء کے لیے’سائبر بریگیڈ‘ کے قیام کا اعلان

سائبر بریگیڈ کے قیام کا مقصد ایران کے خلاف سائبر وار کی پیشگی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے انٹیلی جنس اور فوج کے اشتراک سے ’ملٹری سائبر سیل‘ کی طرز پر ملک بھر کے طلباء کے لیے بھی ’سائبر‘ بریگیڈ‘ کے قیام اعلان کیا گیا ہے۔ طلباء کے سائبر بریگیڈ کے قیام کا مقصد ایران کے خلاف سائبر جنگوں کی روک تھام اور انٹرنیٹ پر ہونے والی تہران مخالف سرگرمیوں کے انسداد کے لیے نئی نسل کو تیار کرنا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں ایران کی باسیج ملیشیا کے سربراہ علی صابر ہامانی کا ایک بیان نقل کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’اسپیس کمیٹی‘ کے ماہرین کی نگرانی میں ایرانی طلباء کو سائبر جنگ کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ طلباء کو ٹریننگ کے دوران بتایا جائے گا کہ وہ سوشل میڈیا پر کیسے موثر کردار ادا کرسکتے ہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس کے نقصانات سے ملک و قوم کو کیسے بچایا جا سکتا ہے۔

ابتدائی طور پر سائبر سپیس کمیٹی ملک بھر سے 200 طلباء کا انتخاب کرے گی جنہیں ملک کے مختلف اضلاع سے لیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں انٹرنیٹ پر ایران مخالف سرگرمیوں سے آگاہی کے کورسز کرائے جائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں سائبر جنگ میں ایران کےدفاع اور دشمن ملکوں انٹرنیٹ سیکیورٹی سسٹم میں نقب لگانے کے گُر سکھائے جائیں گے۔

ملٹری سائبر فورس کے سربراہ کا قتل

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے گذشتہ ستمبر میں اپنی ایک رپورٹ بتایا تھا کہ ملٹری انٹیلی جنس کی جانب سے قائم کردہ سائبر فورس کے سربراہ 35 سالہ محمد حسین تاجیک کو حساس نوعیت کی معلومات اصلاح پسند رہ نماؤں تک پہنچانے کے الزام میں قتل کردیا گیا تھا۔ حسین تاجیک پر الزام تھا کہ انہوں نے فوجی اور حساس نوعیت کی معلومات سبز انقلاب تحریک کے کارکنوں تک پہنچائی تھیں۔

خیال رہے کہ محمد حسین تاجک وزارت برائے انٹیلی جنس میں ٹیکنیکل ڈیپارٹ منٹ کے ڈائریکٹر کے طور پربھی کام کر چکے تھے۔ اس کے وہ پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس ایجنسی کے بھی رکن تھے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ بیرون ملک سرگرم پاسداران انقلاب کی القدس ملیشیا کے ساتھ بھی وابستہ تھے۔

مقتول کے مقرب ذریعے نے’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا تھا کہ حسین تاجیک کو 7 جولائی 2016ء کو ’آپریشنل‘ اور ’داخلہ امور‘ سے متعلق یونٹ کے اہلکاروں نے ان کے والد اور وزارت انٹیلی جنس کے دفتر کے ایک ملازم کی موجودگی میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ محمد حسین تاجیک کو اگست سنہ 2013ء میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر سبز انقلاب تحریک کے کارکنوں کے ساتھ خفیہ مراسم رکھنے اور اہم ریاستی راز اپوزیشن کو فراہم کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ تاجیک کو ڈیڑھ سال تک تہران میں قائم ’’ایوین‘‘ جیل میں تعذیب وتشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی خفیہ ادارے حسین تاجیک پر غیر ملکی سراغ رساں اداروں کے ساتھ رابطوں کو تلاش کرنے کی بھی کوشش کرتے رہے ہیں۔

انٹرنیٹ کے آزادانہ استعمال اور سائبر حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیم ’فریڈم ہاؤس’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران انٹرنیٹ کی آزادیوں کو کچلنے والا بدترین ملک ہے۔ سنہ 2016ء کے دوران فریڈم ہاؤس کی جانب سے انٹرنیٹ پر آزادی اظہار پر قدغنیں لگانے والے ممالک کی ایک فہرست جاری کی گئی تھی جس میں چین پہلے ، شام دوسرے اور ایران تیسرے نمبر پربتایا گیا تھا۔