سلامتی کونسل: بشار کے خلاف برطانوی اور فرانسیسی قرارداد کی تیاری
فرانس اور برطانیہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرار داد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں شام کو ہیلی کاپٹروں کی فروخت کو ممنوع قرار دیا جائے گا اور کیمیائی ہتھیاروں سے مربوط پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔
قرارداد کا متن اس امر کا متقاضی ہے کہ 4 شامی اہل کاروں اور 10 اداروں کے داخلے کو ممنوع قرار دیا جائے۔
یہ قرارداد سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو اس اس بات کا پابند بناتی ہے کہ وہ شامی حکومت اور اس کی فوج کو براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی صورت میں ہیلی کاپٹروں یا اس سے متعلقہ سامان مثلا فاضل پرزہ جات وغیرہ کی فرخت نہ کریں۔
مذکورہ قرارداد پر آئندہ ہفتے رائے شماری کا امکان ہے۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع نے یہ باور کرایا ہے کہ روس سلامتی کونسل میں اس قرار داد کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کرے گا جیسا کہ شام کا تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک 6 بار ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق بشار کی سرکاری فوج کے متعدد یونٹوں نے 2014 اور 2015 میں شمالی شام کے اندر 3 دیہاتوں کے خلاف زہریلا مواد استعمال کیا۔
اسی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ شامی فوج کے دو اڈوں سے اڑان بھرنے والے سرکاری فوج کے ہیلی کاپٹروں نے قمیناس ، تلمنس اور سرمین نامی دیہاتوں پر کلورین سے بھرے ڈرم بھی گرائے تھے۔