.

ایران : نئے میزائل سسٹم کا تجربہ.. مگر روسیS-300 کہاں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں فضائی دفاعی فورس کے سب سے بڑے اڈے "خاتم الانبياء" کی جانب سے منگل 27 دسمبر کو ایک وڈیو جاری کی گئی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ فضائی دفاع کا نیا سسٹم" یا زہراء 3" ہے۔ تاہم اس حوالے سےS-300 میزائل سسٹم کے بارے میں ایرانی حکام چُپ سادھے ہوئے ہیں جو ماسکو کی جانب سے تقریبا ایک ماہ قبل تہران کے حوالے کیا گیا۔ اس سسٹم کے تجربے میں تاخیر کے حوالے سے بھی اب تک کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی ہے۔

ایران میں پیر کے روز شروع ہونے والی عسکری مشقوں کے دوران فضائی دفاع سے متعلق دو میزائل سسٹمز"زهراء" اور "مرصاد" کا انکشاف کیا گیا۔ آزاد ذرائع سے اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ مذکورہ دونوں سسٹم کس حد تک مؤثر ہیں۔

اس خبر کو ایرانی پاسداران انقلاب کی نزدیکی نیوز ایجنسی "تسنیم" کی ویب سائٹ نے نشر کیا۔ اس موقع پر حسب معمول ایرانی میڈیا کی جانب سے دونوں میزائل سسٹمز کی ایسی خصوصیات پیش کی گئی ہیں جو دفاعی صنعت میں ترقی یافتہ ممالک کی مصنوعات سے ملتی جلتی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے پروپیگنڈے کے طریقہ کار کو ایک جانب رکھ کر اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ "یا زہراء 3" نظام میں "شہابِ ثاقب" نوعیت کا میزائل استعمال کیا گیا ہے جو فرانسیسی میزائل "کروٹیل" کے روایتی ورژن سے زیادہ کچھ نہیں اور اس نقل کی اثر انگیزی کو بھی باور نہیں کرایا جا سکتا۔

میزائل سسٹم "يا زهراء 3" درحقیقت قدیم فضائی دفاعی نظام کو تبدیل کرنے کی ایرانی کوشش ہے۔ جس کی ریڑھ کی ہڈی امریکی میزائل سسٹم "ہوک" ہے جس کو شاہ ایران نے انقلاب سے قبل درامد کیا تھا۔

ایران نے 2003 میں "یا زهراء" میزائل نظام کی پہلی جنریشن متعارف کرائی تھی۔ تاہم متعدد مشکلات درپیش ہونے کے سبب تہران اس کو امریکی "ہوک" کا متبادل نہیں بنا سکا تھا۔ آج ایران کا دعوی ہے کہ اس نے مذکورہ میزائل کو جدید بنا لیا ہے۔

روسی فضائی دفاعی نظام S-300 کہاں ہے ؟

اس دوران ایک سوال جو ذہنوں میں آتا ہے وہ یہ کہ ایران برسوں کے انتظار کے بعد ایک ماہ قبل روس سے ملنے والے میزائل سسٹم S-300 کا تجربہ کیوں نہیں کر رہا؟ اگرچہ "خاتم الانبیاء" فضائی اڈے کا کمانڈر روسی میزائلوں کے تجربے کا وعدہ کر چکا ہے تاہم اس تجرنے کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ یہ امر روس کی جانب سے میزائل معاہدے کی مکمل پاسداری کیے جانے کے حوالے سے شکوک و شبہات پید اکر رہا ہے۔

روسی S-300 سسٹم کے بارے میں معلومات

فضائی دفاع کا روسی میزائل سسٹم S-300 طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ روسی کمپنی Almaz Scientific Industrial Corporation کی جانب سے تیار کردہ اس میزائل سسٹم کی مختلف جنریشن سامنے آئیں۔ روس کی جانب سےS-400 سسٹم کے ڈیزائن کیے جانے کے بعد S-300 سسٹم نسبتا پرانا ہو گیا۔ عسکری میدان میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے باوجود یہ بات خارج از امکان ہے کہ روس S-400 سسٹم ایران کو فراہم کرے۔

ایرانی مرشد اعلی کے گھر کے قریب ڈرون طیارہ

ایران کی جانب سے فضائی دفاعی سسٹم سے متعلق تمام تر دعوؤں کے باوجود جمعہ کے روز ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کے نزدیک ایک ڈرون طیارہ اڑتا پایا گیا جس کو گرا دیا گیا۔ واقعے کے تین گھنٹے بعد اعلان کیا گیا کہ یہ ڈرون طیارہ فضائی عکس بندی کے لیے مخصوص "ہیلی شاٹ" نوعیت کا تھا اور ایرانی نشریاتی ادارے کے زیر استعمال تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ طیارہ جمعے کی نماز کی عکس بندی کر رہا تھا تاہم اس دوران ممنوعہ علاقے میں داخل ہو گیا۔ تاہم اس دعوے کے ایک روز بعد ایرانی نشریاتی ادارے نے تصدیق کی کہ اس نے جمعے کے روز کوئی ڈرون طیارہ نہیں بھیجا تھا۔ واقعے کے پراسرار پہلووں پر ابھی تک پردہ پڑا ہوا ہے جس نے ایران کے فضائی دفاعی سسٹم کے مؤثر ہونے کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔