برطانوی دارالعوام کا یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلہ
برطانیہ نے یورپی یونین سے اخراج کا ایک اور سنگ میل طے کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے بھی اس کی منظوری حاصل کرلی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی دارالعوام کی جانب سے بھی ’بریگزٹ‘ [یورپی یونین سے اخراج کے عمل] کی توثیق کرتے ہوئے وزیراعظم تھیریسا مے کو اس کے لیے اقدامات کی اجازت دی ہے۔
گذشتہ روز برطانوی دارالعوام کی جانب سے کثرت رائے سے وزیراعظم کو یورپی یونین سے اخراج کی سفارش کی گئی۔ اس کےساتھ ساتھ یورپی یونین سے نکلنے کی شرائط کے تعین اور دیگر امور کی انجام دہی کے لیے اکتیس مارچ کی تاریخ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
دارالعوام میں یورپی یونین سے اخراج کی قرارداد پر رائے شماری کی گئی، اخراج کے حق میں 494 اور مخالفت میں 122 ووٹ ڈالے گئے جس کے بعد تھیریسا مے کو برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کا قانونی حق حاصل ہوگیا ہے۔
وزیراعظم تھیریسا مے کو یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے سے قبل دارالامراء سے اس کی منظوری لینے کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔
-
''برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج،مذاکرات آغاز کیے جائیں''
برطانیہ میں دوسرے ریفرینڈم کے انعقاد کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ افراد کے دستخط
بين الاقوامى -
برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کا احترام کرتے ہیں: اوباما
لندن سے رابطے برقرار رکھیں گے
بين الاقوامى -
برطانیہ اور یورپی یونین کی 43 سالہ رفاقت اختتام پذیر
برطانیہ میں کل جمعرات کے روز ہونے والے ریفرنڈم میں عوام نے ایک نئی تاریخ رقم کرتے ...
بين الاقوامى