ٹرمپ نے مصافحے کا مطالبہ نظرانداز کردیا، میرکل کو شرمندگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی رہ نماؤں کے ساتھ بات چیت میں اس سفارتی رکھ رکھاؤ کا کوئی اہتمام نہیں کرتے جو ان کے منصب کے شایان شان ہے۔ بعض اوقات تو وہ ملاقات کرنے والے بڑے بڑوں کو بھی نظر انداز کر کے خود کو عالمی ذرائع ابلاغ میں توجہ اور خبروں کا موضوع بنا دیتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی اسی دانستہ لاپرواہی کا مشاہدہ کل جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں اس وقت دیکھا گیا جب جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے ان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد دونوں رہ نماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس شروع کی تو صحافیوں نے ان سے ’مصافحے‘ کا مطالبہ کیا۔ بار بار مصافحہ کے مطالبات آنے کے باوجود صدر ٹرمپ نے میرکل سے ہاتھ ملانا گورا نہ کیا۔ پریس کانفرنس میں موجود جرمن چانسلر نے بھی صدر ٹرمپ کی توجہ ’مصافحہ‘ کی طرف مبذول کرائی اور کہا کہ ہمیں مصافحہ کرنا چاہیے۔ ٹرمپ نے ان کی بات کو بھی نظرانداز کردیا جس کے نتیجے میں میرکل کو بھی شرمندگی اٹھانا پڑی۔

قبل ازیں دونوں رہ نماؤں کے درمیان شمالی اوقیانوس کے عسکری اتحاد ’نیٹو‘ اور امریکا جرمن تعلقات سمیت دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی جرمن چانسلر سے یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔ یہ ملاقات دیگر روایتی بات چیت سے ہٹ کر صرف اس وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنی کہ اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ’بدن بولی‘ سے جرمن چانسلر کے خلاف ناراضی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ دونوں رہ نما اس موقع پر کھچے کھچے لگ رہے تھے۔

سرد مہری کا واضح سبب

یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا اور جرمنی کے درمیان تعلقات کیا شکل اختیار کرتے ہیں تاہم کل جمعہ کے روز ٹرمپ اور انجیلا میرکل کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں کے درمیان سرد مہری صاف دکھائی دیتی تھی۔

شاید اس سرد مہری کا سب سے بڑا سبب جرمن چانسلر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض اقدامات بالخصوص پناہ گزینوں کی امریکا آمد روکنا اور سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی پر تنقید شامل ہے۔

جرمن چانسلر نے کھلے الفاظ میں سات مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک مذہب سے وابستہ لوگوں کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ مسلمانوں کے خلاف انتقامی سیاست پر چل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں