سلیمانی کا وفادار سپاہی ہونے پر فخر ہے: عراقی شیعہ ملیشیا
عراق میں قائم شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے سربراہ ابو مہدی المہندس ایران کے ساتھ اپنی اٹوٹ وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے متنازع جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ کام پر فخر کا اظہار کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ٹی وی کو فارسی زبان مین دیئے گئے ایک انٹرویو میں الحشد الشعبی کے سربراہ ابو مہدی مہندس نے خود کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم فیلق القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا وفادار سپاہی قرار دیا۔
ایران کے ایک سرکاری ٹی وی چینل ’افق‘ نے حال ہی میں ابو مہدی المہندس کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم بھی نشر کی جس میں ان کے الحشد الشعبی میں کردار، ایران نواز عراقی تنظیموں میں شمولیت، ایران کے مفادات کے لیے کام کرنے، بالخصوص سپریم کونسل اور فیلق بدر میں سرگرم رہنے، ولایت فقیہ، ایرانی مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کے خمینی انقلاب میں ان کی حمایت پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
دستاویزی فلم کی تیاری کے دوران مہدی المہندس کا انٹرویو بھی شامل کیا گیا۔ وہ روانی کےساتھ فارسی زبان میں بات کرتا ہے جو اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ اس نے طویل عرصہ ایران میں گذرا۔ اپنے انٹرویو میں مسٹر المہندس نے ’جہاد‘ کو اپنے لیے تفریح قرار دیا اور کہا کہ اس کا جہاد سابق عراقی نظام کے خلاف شروع ہوا۔ عراق کے خلاف بیرونی جارحیت، کویت اور عراق کی جنگ اور ایران مخالف مجاھدین خلق گروپ کے خلاف لڑائی میں بھی وہ پیش پیش رہا ہے۔
المہندس سے پوچھا گیا کہ امریکا نے آپ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے بلیک لسٹ کردیا ہے۔ اس پر آپ کی کیا رائے ہے۔ اس الحشد الشعبی کے سربراہ کا کہنا تھاکہ ’اسے اس بات پر فخر ہے۔ میں خواہش ہے کہ مرنے کے بعد مجھے عراق کے بجائے ایران کے شہداء قبرستان میں دفن کیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں ابو مہدی نے کہا کہ اس نے فارسی زبان سیکھی کیونکہ یہ انقلاب کی زبان ہے۔ جب کہ عربی زبان قرآن کی زبان ہے۔ آیت اللہ بہشتی اس کے روحانی استاد ہیں جو انقلاب ایران کے ایک اہم لیڈر تھے۔
آپ ایران میں سب سے زیادہ کس اسے محبت کرتے ہیں تو عراقی شیعہ ملیشیا کے سربراہ نے کہا کہ وہ رہ برانقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ اس کے بعد جنرل قاسم سلیمانی سے بھی انہیں بے حد محبت ہے۔ انہیں فخر ہے کہ وہ جنرل سلیمانی کے ایک ادنیٰ وفادار سپاہی ہیں۔
ذیل میں المہندس سے ہونے والے سوال جواب کا احوال پیش ہے
آپ دونوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہے
المہندس: میں سپاہی ہوں
الحاج قاسم کے سپاہی؟
المہندس: ہاں الحاج قاسم کا سپاہی ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔
کیا الحشد الشعبی کا سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا سپاہی ہونے پر فخر کرتا ہے؟
المہندس: ہاں، ہاں جنرل سلیمانی میرے لیے نعمت الہیہ ہیں اورمجھے اس پر بجا طور پر فخر ہے۔
آپ ایران یا عراق میں سے کس کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں؟
المہندس: میرے نزدیک عراق، ایران اور اسلام کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ ایران میرے لیے ام القریٰ ہے اور یہ بات میں بلا خوف تردید کہتا ہوں۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے المہندس کہتا ہے کہ اس کی جماعت نے ایران کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ اس نے مغربی ایران کے صوبہ اھواز میں ھور الحویزہ میں لڑائی کی مثال دی۔ اس کے علاوہ سنہ 1980ء کی عراق۔ ایران جنگ میں ہم نے قربانیاں دیں۔ مجاھدین خلق کے خلاف ’گھات‘ آپریشن میں حصہ لیا اور کرمانشا میں اپنے ساتھیوں کی جانیں گنوائیں۔
اپنے انٹرویو میں ابو مہدی المہندس نے امریکا کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے دنیا بھر میں دہشت گردی کا پشت پناہ قرار دیا اور ساتھ ہی ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ ولی الفقیہ کی وفاداری میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق امریکی حکومت نے گذشتہ برس جون میں ابو مہدی مہندس کے کردار پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔اخباری رپورٹ کے مطابق الحشد الشعبی ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ عام شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کار مرتکب ہوا ہے۔ داعش کے خلاف جنگ کی آڑ میں الشعبی کے جنگجو عام شہریوں کو انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔اس کے ساتھ ایران نواز شیعہ عسکری گروپ کا فوج کی جگہ کارروائیوں میں حصہ لینا عراق میں ایرانی اثرو نفوذ کو آگے بڑھانے کی میں تہران کی مدد کرنا ہے۔
امریکیوں کے نزدیک المہندس ایک مشہور اشتہاری دہشت گرد ہے۔ وہ کویت میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مطلوب تھا۔ اسے پھانسی کی سزا دی گئی مگر وہ فرار ہوگیا تھا۔ سنہ 1980ء میں اس نے فرانسیسی اور امریکی سفارت خانوں پر بھی حملے کرانے میں معاونت کی۔ امریکی وزارت خزانہ اسے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرچکی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی تصاویر میں جنرل سلیمانی اور مہدی مہندس کو ایک ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ عراق کے میدان جنگ کے نقشوں کاجائزہ لیتے ہوئے،عراق کے سرکاری حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران، ایران نواز عراقی شیعہ ملیشیاؤں کی قیادت سے ملاقاتوں میں بھی دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے کچھ عرصہ پیشتر ابو مہدی المہندس کی شخصیت پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق الہندس کی پیدائش عراق کے بصرہ شہر میں 1954ء میں درج کی گئی ہے۔ عراقی ریکارڈ میں اس کا نام جمال جعفر محمد علی الابراہیمی درج ہے۔ اس کا خاندان ایرانی نژاد ہے جب کہ اس نے خود بھی ایک ایرانی شہریت رکھنے والی خاتون ہی سے شادی کی۔
جعفر ابراہیمی کا خاندان جنوب مشرقی ایران کے کرمان شہر سے عراق کے جنوب میں واقع البصرہ شہر میں رضا شاہ پہلوی کےدور میں آباد ہوا۔ اثنا عشری شیعہ فرقے سے الشیخیہ فرقے میں منتقل ہونے پر ان کے خاندان کے رضا خان ابراہیمی کو قتل کردیا گیا جس کےبعد اس خاندان کے بیشتر افراد ایران سے عراق منتقل ہوگئے۔
المہندس کے والد جعفر محمد علی ایرانی شہریت کے ساتھ البصرہ میں آباد ہوئے۔ مگر انہوں نے سنہ1950ء کے اوائل میں عراق کی شہریت حاصل کرلی تھی۔ عراق کی شہریت حاصل کرنے کے بعد اس وقت کی عراق کی شاہی حکومت کی مقرب الشیخیہ فاؤنڈیشن کی معاونت بھی کی۔
المہنس نے شروع میں عراق میں حزب الدعوۃ نامی ایک گروپ سے وابستگی اختیار کی۔ مذہبی تعلیم البصرہ کے ایک شیعہ مکتب سے حاصل کی۔ حزب الدعوۃ میں شمولیت کے بعد اس نے اپنا فرضی نام عبدالزھرہ عثمان ابویاسین رکھا۔ سنہ1973ء میں بغداد کی ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے انجینیرنگ میں تعلیم حاصل کی۔
عراق میں حزب الدعوۃ کے وابستگان کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ا المہندس سنہ1980ء میں کویت فرار ہوگیا۔ وہاں اس نے گاڑیوں کے میکینک کا کام شروع کیا۔ عراق ۔ایران جنگ تک وہ وہیں رہا، کویت میں اسے الشیخ ابو مہدی المہندس کے نام سے جانا جاتا تھا۔
کویت کی جانب سے ایران کے خلاف عراق کی حمایت کرنے پر ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے عسکریت پسندوں کویت میں فرانسیسی اور امریکی سفارت خانوں پر حملوں کا ٹاسک دیا۔ انہوں نے کویت میں 12 اکتوبر 1983ء کو امریکی اور فرانسیسی سفارت خانوں میں بم دھماکے کیے جسکے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے۔
امریکا، کویت اور انٹر پول کی مشترکہ تحقیقات کےنتیجے میں ابو مہدی المہندس کا نام سامنے آیا اور پتا چلا کہ ان حملوں کا ماسٹر مائینڈ اور ان پر عمل درآمد کرنے والوں میں المہندس کا کلیدی کردار ہے۔
کویت میں دہشت گردی کے بعد پاکستان کے جعلی پاسپورٹ پر اسے جمال علی عبدالنبی کے نام سے ایران منتقل کردیا گیا۔ سنہ 1980ء کے آخر میں اس نے ایران ہی میں ایک خاتون کےساتھ شادی کی۔ اسے وہاں نہ صرف ایرانی شہریت دی گئی بلکہ پاسداران انقلاب کا اہم مشیربھی قرار دیا گیا۔
فیلق بدر کی قیادت
سنہ 1985ء میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیر عہدیدار محسن رضائی نے سنہ 1980ء سے 1988ء تک ایران کی حمایت میں لڑنے والی عراقی تنظیم ’فیلق بدر‘ کا سربراہ مقرر کیا۔
سنہ 1988ء کے بعد وہ فیلق القدس کی ہدایت پر فیلق بدر سے الگ ہوگیا اور اسلامی سوسائٹی نامی ایک تنطیم کی بنیاد رکھی۔ اس دوران اس نے گرفتار کیے گئے عراقی فوجیوں کو سزائےموت دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
الجادریہ ٹارچر سیل میں قیدیوں کا قتل
سنہ 2005ء میں ابو مہدی المہندس کی شہرت ایک جنگی مجرم کےطور پر اس وقت ایک نئی شکل میں سامنے آئی جب پتا چلا کہ اس نےاپنا ایک نجی ٹارچر سیل بنا رکھا ہے۔
الجادریہ ٹارچر سیل کو سابق ایرانی فوجی افسران اور دیگرعہدیدار چلا رہے تھے۔ انہوں نے وہاں پر سابق عراقی فوجیوں اور صدام حسین کے مقربین کو لانے، انہیں اذیتیں دینے اور قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیے رکھا۔
اس وقت کے عراقی وزیر داخلہ باقر صولاغ نے بھی اس عقوبت خانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ وہاں پر لوگوں کو اس کے حکم سے قید کرنے کے بعد تشدد کیا جاتاہے۔ بعد میں امریکیوں کو جب اس عقوبت خانے کا علم ہوا تو انہوں نے اسے بند کرادیا تھا۔
موصل لڑائی میں کردار
جمال جعفر ابراہیمی المعروف ابو مہدی المہندس کا نام جون 2014ء میں اس وقت ایک بار پھر منظرعام پرآیا جب داعش نے شمالی شہر موصل پر قبضہ کرلیا۔ اس بار المہندس کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والا ایک قومی لیڈر قرار پایا۔
الحشد الشعبی کے سربراہ مہدی مہندس نے ایرانی پاسداران انقلاب کی براہ راست نگرانی، فیلق القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت اور عراق کے ایک دوسرے جنگجو کمانڈر ھادی العامری کے ساتھ کام کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں الحشدہ الشعبی عسکری تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔
-
مصطفی بدرالدین کے قتل میں قاسم سلیمانی کا کردار؟
"العربیہ" نیوز چینل نے منگل کی شب ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ نشر کی جس میں ...
مشرق وسطی -
بغداد میں نیا ایرانی سفیر۔۔۔ جنرل سلیمانی کا مشیر
عراقی حکومت نے ایرانی سفیر حسن دانائی فر کی سبکدوشی کے بعد ان کی جگہ ایرج مسجد کی ...
مشرق وسطی -
جنرل قاسم سلیمانی خطرناک عالمی دہشت گرد ہےِ: واشنگٹن ٹائمز
امریکی اخبار کا جنرل سلیمانی پر پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ
بين الاقوامى