ملیشیاؤں کو مسلح کرنا ایرانی صدارتی مہم کا اہم ترین عنوان

اصلاح پسند سیاسی رہ نما کا شام سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران میں 19 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات امیدواروں کے اپنے اپنے سیاسی نقطہ ہائے نظر میں اختلافات کے باوجود بیرون ملک سرگرم شیعہ عسکریت پسند گروپوں کو مسلح کرنا قدر مشترک ہے۔ بیشتر امیدوار اپنی انتخابی مہمات کے دوران شام، عراق، یمن اور دوسرے علاقوں میں سرگرم شیعہ ملیشیاؤں کو مسلح کرنے کو اپنی ترجیح میں شامل رکھے ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدارتی انتخابات سے چند روز پیشتر ایران میں جاری انتخابی مہم شام میں جاری کشیدگی اور اس کے ایرانی انتخابات پر اثرات پر بھی بحث کی جا رہی ہے، بالخصوص ایران کی ایک سیاسی جماعت ’بلڈنگ کیڈر‘ کے سیکرٹری جنرل غلام حسین کرباسجی کے آتشیں بیان کے بعد شامی رجیم کے دفاع کا موضوع انتخابی مہم کا اہم عنوان بن چکا ہے۔

خیال رہے کہ ’بلڈنگ کیڈر‘ سابق ایرانی صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کی تشکیل کردہ ہے اور اس کا شمار ملک کی اہم ترین سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے۔

حسن روحانی کی حمایت میں اصفہان شہر میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے غلام حسین کرباسجی نے شام سے ایرانی فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو شام میں خون خرابہ روکنے کے لیے جنگ اور قتل عام کے بجائے سفارتی اور سیاسی محاذ پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے تہران کی بیرون ملک عسکری تنظیموں کی مسلح امداد اور انہیں رقوم فراہم کرنے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

قبل ازیں تہران کے سابق میئر نے بھی شام میں مذہبی مقامات کے دفاع کی آڑ میں فوج کشی کی شدید مذمت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں