شمالی کوریا "مناسب حالات" میں امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار
جنوبی کوریا کی ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا کی ایک سینئر سفارت کار کا کہنا ہے کہ اگر حالات مناسب ہوئے تو پیونگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ میں امریکی امور کی ڈائریکٹر جنرل شوئے سون ہوئی نے یہ بات ہفتے کے روز ناروے سے وطن واپس آتے ہوئے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
شوئے سون ہوئی سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا شمالی کوریا سیؤل میں جنوبی کوریا کی نئی حکومت کے ساتھ بھی بات چیت کے لیے تیار ہے تو اُن کا جواب تھا " ہم دیکھیں گے"۔
اس سے قبل اپریل کے اواخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا کے ساتھ ایک "بڑا تنازع" جنم لینے کا امکان ہے تاہم وہ شمالی کوریا کے نیوکلیئر اور میزائل پروگرام سے متعلق تنازع کے لیے سفارتی نتیجے تک پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مناسب حالات میں شمالی کوریا کے سربرہ کِم جونگ اُن سے ملاقات اُن کے لیے ایک "اعزاز" ہوگا۔
شمالی کوریا کی سفارت کار شوئے سون ہوئی امریکا کے سابق سرکاری اہل کاروں کے ساتھ غیر سرکاری بات چیت کے سلسلے میں ناروے کے دورے پر تھیں۔
ادھر گزشتہ ہفتے منتخب ہونے والے جنوبی کوریا کے نئے صدر نے کا کہنا ہے کہ اگر حالات مناسب ہوئے تو وہ شمالی کوریا جانے کے لیے تیار ہوں گے۔ انہوں نے باور کرایا کہ شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے حوالے سے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پابندیوں کے ساتھ متوازی طور پر بات چیت کا سہارا لینا ناگزیر ہے۔
-
ایران اور شمالی کوریا کے درمیان میزائل پروگرام میں تعاون کے راز
مغربی دنیا کی رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ منگل کو تہران کی جانب سے آبنائے ...
بين الاقوامى -
ناکام میزائل تجربے کے بعد شمالی کوریا کا ایک مرتبہ پھر امریکا کو چیلنج
شمالی کوریا نے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود ایک اور بلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے ...
بين الاقوامى -
شمالی کوریا کے معاملے میں چین امریکا کے ساتھ ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے تنازع پر چین ...
بين الاقوامى