ترکی اور امریکا شام وعراق میں مشترکہ لائحہ عمل پر متفق

ترک صدر کی وائیٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے طویل ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ شام اور عراق میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی دورے کے دوران صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے دونوں صدور نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا۔

وائیٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ عرب دنیا میں عرب خطے میں دہشت گرد تنظیموں کا کوئی مستقبل نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ترک صدر کا یہ پہلا دورہ امریکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کررہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ترکی کےساتھ تجارتی تعلقات کا فروغ ان کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف جاری آپریشن اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا ترکی کی مدد جاری رکھے گا۔

خیال رہے کہ ترکی صدر رجب طیب ایردوآن اعلیٰ حکومتی وفد کے ہمراہ گذشتہ روز واشنگٹن پہنچے تھے جہاں انہوں نے صدر ٹرمپ سے طویل ملاقات کی۔

’ٹوئٹر‘ پرپوسٹ ایک مختصر بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایردوآن کے ساتھ کافی طویل اور مشکل موضوعات پر بات چیت ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ ترک صدرنے ایک ایسے وقت امریکا دورہ کیا ہے جب دوسری جانب شام میں امریکا کرد ڈیموکریٹک فورسز کو بھاری اسلحہ سے لیس کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ ترکی کو امریکا کے اس فیصلے پر تحفظات ہیں۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شام میں کردوں کے سیاسی طور پر تقویت پکڑنے پر بھی بات چیت کی گئی۔

قبل ازیں جمعرات کو امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ کرد جنگجوؤں کو مسلح کرنے کے امریکی فیصلے پر ترکی اور امریکا کے درمیان اختلافات جلد دور ہوجائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں