چین اور امریکا کی شمالی کوریا کے خلاف مشترکہ قرارداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شمالی کوریا کی جانب سے ممنوعہ ہتھیاروں بالخصوص بیلسٹک میزائل تجربات کے جواب میں چین اور امریکا نے سلامتی کونسل میں پیانگ یانگ کے خلاف مشترکہ قرار داد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیرہ نیکی ہالے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ پیانگ یانگ کے خلاف سفارتی اور عسکری حلیف ہیں اور دونوں ملک شمالی کوریا پر پابندیوں کے لیے سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد پیش کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں نیکی ہالے کا کہنا تھا کہ اگرشمالی جوہری سرگرمیاں اور بیلسٹک میزائل تجربات کا سلسلہ روک دے تو وہ واشنگٹن بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے شمالی کوریا سے بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا مگر اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے جاری سرگرمیاں اور میزائلوں کی تیاری روکنا ہوگی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا تازہ میزائل تجربہ پیانگ یانگ کی دفاعی صلاحیت کو آگے لے جانے کےحوالے سے انتہائیی خطرناک پیش رفت ہے تاہم پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آنے سے قبل دفاعی طور پر مضبوط ہونا ضروری سمجھتا ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے گذشتہ پورے سال میں 10 میزائل ٹیسٹ کیے تھے جب کہ رواں سال پہلے چار ماہ میں پیانگ یانگ 10 میزائل تجربات کرچکا ہے۔ امریکا کا دعویٰ ہےکہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے ساتھ ساتھ بین البراعظمی سطح پر مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو بین البراعظمی جوہری وار ہیڈ لے جانے والے میزائلوں کی تیاری سے روکیں گے۔

شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربے پر جاپان اور چین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی ضمن میں امریکی خاتون سفیرہ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا مل کر سلامتی کونسل میں شمالی کوریا کے خلاف ایک قرارداد پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں