.

خطے میں مداخلت، جواد ظریف بنیاد پرستوں کے ساتھی نکلے!

وزیرخارجہ کی جنرل سلیمانی کی خدمات کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم اورخطے کے ممالک میں مداخلت کی مرتکب تنظیم ’فیلق القدس‘ کے سربرہ جنرل سلیمانی کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ خطے کے ممالک میں مداخلت کی پالیسی میں ایرانی قیادت متحد اور ایک موقف رکھتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک مقامی اخبار کو انٹرویو میں وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ جنرل سلیمانی اور حکومت کے درمیان کی قسم کے اختلافات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی سیاسی قیادت اورصدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے رہ نماؤں کا تہران کی خارجہ پالیسی کے بارے میں موقف ایک ہے۔ نیز فیلق القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی خدمات کو حکومت تسلیم کرتے ہوئے ان کی حمایت کرتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اصلاح پسند کہلائے جانے والے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی گذشتہ 20 سال سے ایران کے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ شام اور عراق میں ان کی سرگرمیوں کو ایرانی حکومت کی مکمل تائید اور حمایت حاصل ہے۔

خیال رہے کہ نظریاتی طور پر جنرل سلیمانی اور جواد ظریف دو الگ الگ سیاسی مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنرل سلیمانی کا شمار ایران کےبنیاد پرست اور سخت گیر مذہبی عناصرمیں ہوتا ہے جو ایرانی شیعہ انقلاب کو دوسرے ملکوں تک پھیلانے اور پڑوسی ملکوں میں عسکری مداخلت میں سرگرم ہیں۔ جب کہ محمد جواد ظریف کو ایک متعدل اور اصلاح پسند سیاسی رہ نما گردانا جاتا ہے۔ دو سال قبل ایران اور چھ عالمی طاقتوں کےدرمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ مغرب کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کے قائل ہیں اور ان کا شمار صدر حسن روحانی کے مقربین میں ہوتا ہے۔

اس کے برعکس جنرل سلیمانی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب اور شدت پسند صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی کے مقرب ہیں۔ وہ مزاحمت اور مغرب بالخصوص امریکا کے خلاف سخت رویہ رکھنے کے قائل ہیں۔ غالبا وہ ایران کے سب سے موثر عسکری شخصیت ہیں جو ایرانی انقلاب کو خطے کے دوسرے ملکوں کو درآمد کرنے میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔

ہالینڈ سے شائع ہونے والی فارسی نیوز ویب سائیٹ’زمان‘ کے مطابق ایران کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے کسی بھی امیدوار نے اعلانیہ شام یا کسی دوسرے ملک میں فوجی مداخلت کا بیان نہیں دیا تاہم شام میں فوجی مداخلت کی کھل کر مخالفت کرنے والوں میں اصلاح پسند امیدوار غلام حسین کرباسجی ہیں۔ وہ آخری دنوں میں حسن روحانی کے حق میں دست بردار ہوگئے تھے۔ اسی طرح ایک دوسرے صدارتی امیدوار اسحاق جہانگیری بھی جوہری سرگرمیوں اور ایران کے میزائل تجربات کی مخالفت کرچکے ہیں۔

جنرل سلیمانی بارے جواد ظریف کا موقف

ایرانی صدارتی انتخابات سے قبل جاری رہنے والی انتخابی مہم کے دوران تہران کی عسکری اور سیاسی قیادت کو الگ الگ موقف پردیکھا گیا۔ بہ ظاہر دونوں کیمپوں[سیاسی اور عسکری] میں بیرون ملک مداخلت کے معاملے میں اختلافات بھی دیکھے گئے مگر جواد ظریف نے جنرل سلیمانی کی تعریف کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ خطے میں عسکری مداخلت کے معاملے میں اصلاح پسند اور شدت پسند سب ایک ہیں۔

جواد ظریف کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی سے انہیں کوئی اختلاف نہیں۔ وہ قابل قدر شخصیت ہیں اور گذشتہ 20 سال سے اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔