’’ہم الحدیدہ میں فوجی کارروائی رکوانے میں کامیاب رہے‘‘:عالمی ایلچی
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد نے سلامتی کونسل میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ الحدیدہ میں ممکنہ فوجی کارروائی کو کامیابی سے رکوا دیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن کی تازہ صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور عالمی ایلچی نے کونسل کے رکن ممالک کے نمائندوں کو جنگ زدہ ملک میں قیام امن کے لیے کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔
اسماعیل ولد شیخ احمد نے کونسل کو بتایا کہ یمن میں اس وقت لڑائی جاری ہے اور اس وجہ سے اسلحہ عام ہو رہا ہے اور بارودی سرنگیں پھیلائی جارہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حوثی تحریک سے وابستہ ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز نے دسیوں شہریوں کو ہلاک اور زخمی کردیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یمن میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑنے سے قریباً پانچ سو اموات ہوچکی ہیں اور ہزاروں لوگ بیمار پڑے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر کے سربراہ اسٹیفن اے او برائن نے بتایا ہے کہ تنازعے کے نتیجے یمنی شہریوں کو ہلاک کیا جارہا ہے اور انھیں ان کے بنیادی حقوق اور ضروریات زندگی سے محروم رکھا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یمن کو اس وقت دنیا میں خوراک کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ خوراک اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ ملکی معیشت ابتر ہوچکی ہے اور یمنی اداروں کی آبادی کے مطالبات اور تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت ماند پڑ چکی ہے۔
یمن میں ہیضے کی وبا پھوٹنے کے حوالے او برائن کا کہنا تھا کہ ہیضے سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور متاثرین میں ایک تہائی کیس بچوں کے ہیں۔ہیضے کی یہ وبا ملک میں جاری لڑائی کی وجہ سے پھیلی ہے۔