قطر کا اٹلی سے 7 بحری جہازوں کی خرید کےلیے 5 ارب یورو کا سمجھوتا
قطر اور اٹلی کے درمیان پانچ ارب یورو مالیت کا ایک دفاعی سودا طے پا گیا ہے۔ اس کے تحت قطر اٹلی سے سات جنگی بحری جہاز خرید کرے گا۔
قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ دفاعی سودا دوطرفہ فوجی تعاون کے معاہدے کا حصہ ہے۔ انھوں نے دوحہ میں اپنے اطالوی ہم منصب اینجلینو الفانو کے ساتھ بدھ کے روز مشترکہ نیوز کانفرنس میں اس سمجھوتے کا اعلان کیا ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے قطر اور چار عرب ممالک کے درمیان جاری بحران کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ شیخ محمد کا کہنا تھا کہ اس ڈیل کا تخمینہ قریباً پانچ ارب یورو ہے لیکن انھوں نے اس کی مزید تفصیل بیان کی ہے اور نہ اس معاہدے میں شامل کمپنیوں کے نام بتائے ہیں۔
گذشتہ سال جون میں اٹلی کی سرکاری جہاز ساز کمپنی فنکٹائری نے یہ اطلاع دی تھی کہ اس نے قطر کے لیے جہاز تیار کرنے کے چار ارب مالیت کے ایک سمجھوتے پر دست خط کیے ہیں۔تب اس کمپنی نے کہا تھا کہ وہ قطر کو چار جنگی بحری جہاز ، دو امدادی بحری جہاز اور طیاروں کے اُترنے کے لیے ایک لنگر انداز پلیٹ فارم تیار کر کے دے گی۔اس کے علاوہ وہ ان جہازوں کو قطر کے حوالے کرنے کی تاریخ کے بعد سے پندرہ سال تک فاضل پرزوں اور مرمت کی خدمات بھی مہیا کرے گی۔
اس نے مزید کہا تھا کہ یہ تمام جہاز اٹلی کے جہاز سازی کے کارخانوں میں تیار کیے جائیں گے اور ان کی تیاری کا کام 2018ء میں شروع ہوگا۔اٹلی کی دفاعی سازو سامان تیار کرنے والی کمپنی لیونارڈو ان جہازوں پر تنصیب کے لیے الیکٹرانکس اور ہتھیاروں کے نظام مہیا کرے گی۔ اس دفاعی سودے کی کل رقم میں سے ایک تہائی اس کمپنی کو ادا کی جائے گی۔