ڈپازٹس کی کمی، قطر اپنے بینکوں میں 6.9 ارب ڈالر ڈالنے پر مجبور
ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قطر کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری معلومات میں انکشاف ہوا ہے کہ قطر کی حکومت نے گزشتہ ماہ مقامی بینکوں میں 6.9 ارب ڈالر کی خطیر رقم داخل کی۔ مرکزی بینک کی جانب سے یہ اقدام قطر میں مقیم غیر ملکیوں اور نجی سیکٹر کی جانب سے قطری بینکوں میں جمع کرائی جانے والی رقوم میں کمی کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل بلوم برگ ایجنسی نے بتایا تھا کہ قطر کے مرکزی بینک نے ملک کے مقامی بینکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومتی امداد کا انتظار کرنے کے بدلے بیرونی منڈیوں کا رخ کر کے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کریں تا کہ فنڈنگ حاصل کی جا سکے۔
ایجنسی کے مطابق قطر کا مرکزی بینک مقامی بینکوں کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ قرضوں کی طلب یا پھر سکوک جاری کرنے کے لیے بیرونی منڈی کا رخ کریں تا کہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر یا کریڈٹ ریٹنگ میں مزید کمی سے اجتناب کیا جا سکے۔
جولائی کے مہینے میں قطری بینکوں میں غیر ملکی ڈپازٹس میں 8% کی کمی واقع ہوئی تھی اور اس کا حجم 43 ارب ڈالر کے قریب رہ گیا تھا۔ اس سے قبل جون کے مہینے میں بھی تقریبا اسی شرح سے کمی واقع ہوئی تھی۔
قطر کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں قطری بینکوں میں غیر ملکی صارفین کی جمع شدہ رقوم میں 14 ارب قطری ریال یعنی تقریبا 4.12 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی تھی اور اس کمی کی شرح 7.58% بنتی ہے۔ اسی ماہ قطری بینکوں کے غیر ملکی بینکوں سے قرضوں کی مالیت کم ہو کر تقریبا 12.7 ارب ڈالر ہو گئی جب کہ مئی میں یہ رقم 14.2 ارب ڈالر تھی۔
بحرین میں بینکنگ امور کے ایک تجزیہ کار کے مطابق قطری بینکوں کے پاس صارفین کی رقوم اور دیگر خلیجی ممالک کے بینکوں کے ڈپازٹس کی صورت میں تقریبا 60 ارب قطری ریال یعنی تقریبا 16 ارب ڈالر موجود ہیں۔