.

ایران نے بلغارین وزیراعظم کا طیارہ فضائی حدود سے گذرنے سے روک دیا

تہران نے بلغارین وزیراعظم کے طیارے کا راستہ تبدیلی کو تکنیکی وجہ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے سعودی عرب سے روایتی دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلغاریہ کے وزیراعظم بویکو بوریسوف کے طیارے کو اپنی فضائی حدود سے گذر کر سعودی عرب جانے سے روک دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بلغارین وزارت خارجہ کی ترجمان ایکٹا رینا زخاریفا کا کہنا ہے کہ گذشتہ منگل کو وزیراعظم ایران کی فضائی حدود سے گذر کر الریاض جا رہے تھے کہ ایرانی حکام نے ان کا طیارہ اپنی فضائی حدود سے گذرنے سے روک دیا۔

وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کے روز وزیراعظم بوریسوف سمیت اعلیٰ حکام کا ایک وفد سعودی عرب جا رہا تھا اور ان کے طیارے نے ایران کی فضائی حدود سے گذرنا تھا مگر ایرانی حکام نے طیارے کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا۔ دوسری جانب تہران نے بلغارین وزیراعظم کے طیارے کا راستہ تبدیل کرانے کی تکنیکی وجہ قرار دیا ہے۔

مسز زخاریفا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیراعظم اور حکومتی وفد کے طیارے کے عملے کے پاس ایران کی فضائی حدود سے گذرنے کے لیے ضروری سفارتی دساویزات بھی موجود تھیں، مگر جیسے ہی ان کا ہوائی جہاز ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو اسے روک لیا گیا اور طیارے کوراستہ تبدیل کرنے کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی فضائی حدود سے گذرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد طیارے کو ترکی کی فضائی حدود سے گذرنے کی سفارتی اجازت لینا پڑی جس کے بعد ترکی اور عراق فضائی حدود سے گذر کر ہوائی جہاز سعودی عرب پہنچا۔

بلغارین وزیرخارجہ نے ایرانی حکومت کی طرف سے جاری کردہ وضاحت کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ طیارے کو تکنیکی وجہ سے راستہ بدلنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔

بلغاریہ کی حکومت نے وزیراعظم کے طیارے کو ایران کی فضائی حدود سے گذرنے کی اجازت نہ دینے پر ایران سے شدید احتجاج کیا ہے۔ بلغارین وزارت خارجہ کی ترجمان سیفڈیلینا ارناؤڈوفا کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ نے ایران کے قائم مقام سفیر حسن دوتاکی کو دفتر میں طلب کرکے واقعے کی وضاحت طلب کی ہے۔