سعودی عرب اور برطانیہ کا ایران کو دہشت گردی کی معاونت سے روکنے پر اتفاق
ایران یمن میں تخریبی اور خطرناک کردار ادا کررہا ہے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کررہا ہے: بورس جانسن
برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ ایران یمن میں تخریبی اور خطرناک کردار ادا کررہا ہے اور وہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کررہا ہے۔
انھوں نے بدھ کی شب اپنے سعودی ہم منصب عادل الجبیر کے ساتھ لندن میں نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ سعودی عرب نے یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کے لیے اتحاد تشکیل دیا تھا‘‘۔انھوں نے برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک سمجھوتے کا بھی حوالہ دیا جس کا مقصد جہاز رانی کی گذرگاہوں کو کنٹرول کرنا تھا تاکہ یمن کی بندرگاہوں کو کھو ایا جاسکے۔
اس موقع پر وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ سعودی عرب نے برطانیہ کے ساتھ ایران کا راستہ روکنے اور اس کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت رکوانے سے اتفاق کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم یمن میں انتقال اقتدار کے عمل اور سیاسی مکالمے کی حمایت کرتے ہیں۔ انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ یمن میں جاری جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے یمن میں بحران کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے تمام کوششوں کو سبوتاژ کردیا ہے۔انھوں نے مملکت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یمن میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انھوں نے برطانیہ کے ساتھ سعودی عرب کی تزویراتی شراکت داری شروع کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے بہت شاندار مواقع موجود ہیں۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ویژن 2030ء میں ایک جامع تنظیم نو کا عمل بھی شامل ہے ۔